ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

جنوبی افریقہ،ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 3 پاکستانی قتل

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

جوہانسبرگ (آئی این پی ) جنوبی افریقہ میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 3 پاکستانیوں کو قتل کردیا گیا،پر پاکستانیوں نے اس المناک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ہائی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ پاکستانیوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں،

جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کو پاکستان لانے کے لیے انتظام کیے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 3 پاکستانیوں کو قتل کردیا گیا۔سیاہ فام ملزمان واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔دوران ڈکیتی مزاحمت پر قتل کیے جانے والے تینوں پاکستانی جنوبی افریقہ میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے۔قتل ہو ئے 3 میں سے 2 افراد، افتخار احمد اور کاشف علی کا تعلق ضلع گجرات کے علاقے جلالپور سے جبکہ تیسرے شخص سرفراز کا تعلق ضلع گوجرانوالہ سے ہے۔اس المناک سانحے پر پاکستانیوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور پاکستان ہائی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ جنوبی افریقہ کے اعلی حکام سے ملزموں کو گرفتار کرنے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے اقدامات سے متعلق بات چیت کی جائے۔انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پاکستانیوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں اور جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کو پاکستان لانے کے لیے انتظام کیے جائیں۔  جنوبی افریقہ میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 3 پاکستانیوں کو قتل کردیا گیا،پر پاکستانیوں نے اس المناک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ہائی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ پاکستانیوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں، جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کو پاکستان لانے کے لیے انتظام کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…