ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

محمود عباس کی حماس کی اکثریت رکھنے والی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی دھمکی

datetime 9  دسمبر‬‮  2018 |

مقبوضہ رام اللہ(این این آئی )فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے 2006ء کے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے حماس کی کامیابی کے بعد قائم کی جانے والی قانون سازکونسل کو تحلیل کرنے کی دھمکی دے د ی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق رام اللہ میں نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس سے خطاب میں صدر عباس نے کہا کہ ہم قانونی طریقے سے مجلس قانون ساز کو تحلیل کریں گے۔

میں یہ بات پہلی مرتبہ کررہا ہوں اور جلد ہی اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب میں صدر محمود عباس نے حماس کے ساتھ کیے گئے بعض معاہدوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ 10 سال سے حماس فلسطینیوں میں مصالحت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے۔ 2017ء میں مصر کی ثالثی کے تحت ایک مصالحتی معاہدہ طے پایا تھا مگر حماس نے اس کی پاسداری نہیں کی۔صدر عباس نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے تمام امور یا تو وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے سپرد کیے جائیں یا تمام اخراجات حماس خود برداشت کرے۔محمود عباس نے اپنی تقریر میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں کمی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ جب سے امریکا نے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا، امریکا میں تنظیم آزادی فلسطین کے دفاتر سیل کیے اور فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد بند کی تب سے امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پیرس میں طے پانے والا معاشی معاہدہ عارضی تھا۔ ہم نے متعدد بار اسرائیل سے کہا ہے کہ اس معاہدے کو ختم کیا جائے یا اس میں تبدیلی لائی جائے۔ادھر حماس کا کہنا تھا کہ محمود عباس کے پاس پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا اختیار نہیں۔فلسطین کے بنیادی دستور کے تحت ملک میں ہر چار سال کے بعد پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا جانا چاہیے مگر 2006ء کے بعد فلسطین میں پارلیمانی انتخابات نہیں ہوئے۔فلسطینی پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں 2007ء میں ہونے والے تنازعات کے بعد تعطل پیدا ہوگیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…