ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر سکھ لڑکی نے مسلمان سہیلی کیلئے ایثار کی مثال قائم کردی،قابل تحسین اقدام

datetime 2  دسمبر‬‮  2018 |

سری نگر(آئی این پی)مقبوضہ کشمیر کی سکھ لڑکی نے مسلمان سہیلی کیلئے ایثار کی عظیم مثال قائم کردی، تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی ایک سکھ لڑی 23سال منجوت سنگھ نے اپنی مسلمان سہیلی سمرین کو اپنا گردہ عطیہ کردیا ہے،سمرین ایک عرصہ سے گردے کے امراض کا شکار تھی، ڈاکٹروں نے اسے کاہ تھا کہ گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے کے سو ا اس کا کوئی علاج نہیں اس موقع پر اس کی سکھ سہیلی منجوت سنگھ آگے بڑھی اور اس نے مسلم سہیلی سمرین کو گردہ دینے کا اعلان کردیا۔

بھا رتی میڈ یا کی رپورٹ کے مطابق منجوت سنگھ کا گردہ میچ کرگیا ہے۔ منجوت کے والدین نے اپنی بیٹی کے فیصلے کی مخالفت کردی لیکن منجوت اپنے فیصلہ پر ڈٹی ہوئی ہے۔ دریں اثنا گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے کی اجازت دینے والی کمیٹی نے منجوت کے والد کی اجازت کے بغیر گردہ لینے سے انکار کردیا ہے۔ منجوت نے بھارتی اخبار کو بتا یا ہے کہ میں اپنے والدین کو الزام نہیں دے سکتی ان کی میرے ساتھ جذبات وابستگی ہے۔ وہ اپنے نقطہ نظر سے درست کہہ رہے ہیں لیکن میں جذبات سے بالاتر ہوکر سو رہی ہوں۔ ہمیں وہی کرنا چاہیے جس کیلئے خدا نے ہمیں بھیجا ہے۔ تمام تعلقات یہاں رہ جائیں گے لیکن زندگی بچانا انتہائی اہم ہے۔ میں بالغ ہوں اور اپنا فیصلہ خود کرسکتی ہوں۔ منجوک کا تعلق اودھم پورسے ہے جہاں چار سال قبال اس کی ملاقات سمرین سے ہوئی تھی اور وہ دونوں دوست بن گئیں۔ گزشہ دنوں اس نے فیس بک پر سمرین کی بارے پڑھا۔ اسے یقین نہیں تھا کہ یہ وہی سمرین ہے تاہم وہ بذریعہ ہوائی جہاز سمرین کے پاس پہنچ گئی۔ منجوت ایک نوجوان سرمایہ کار بھی ہے اور وہ انٹرنیشنل اینٹی کرپشن آینڈ ہیومن رائٹس کونسل کے نام سے ایک این جی او کی چیئرپرسن بھی ہے۔ سمرین آجکل شیر کشمیر انٹسی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزسری نگر میں داخل ہے۔ سمرین کے والد نے کہا ہے کہ وہ ایک غریب آدمی ہے اور آپریشن کیلئے سات ، آٹھ لاکھ روپے خرچ نہیں کرسکتا ۔ اس نے منجوت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والدین کی بات مان لے کیونکہ اس کے والد نے ہسپتال والوں کو منع کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…