ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ہمارے ’’بابا‘‘ نےامریکا میں ایک نئی زندگی کا آغاز کیا تھا لیکن وہ سعودی عرب سے متعلق ۔۔۔جمال خاشقجی کی بیٹیاں منظر عام پرآگئیں

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

ریاض(اے این این)سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے مقتول صحافی جمال خاشقجی کی صاحبزادیوں نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے والد کے لیے شائع ہونے والی تعزیت سے متعلق تحریر میں زور دیا کہ ان کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوگی اور ان کے والد کے خواب ان کے ذریعے سے جاری رہیں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نوحہ خاشقجی اور رضان جمال خاشقجی نے واشنگٹن پوسٹ کی آن لائن شائع ہونے والی تحریر میں لکھا کہ ‘یہ کسی قسم کی تعریف نہیں ہے جس کے بعد اس کی حیثیت ختم ہوجائے گی’۔انہوں نے مزید تحریر کیا کہ نہ ہی ان کی روشنی کبھی مدھم ہوگی، ان کے خواب ہماری صورت میں زندہ رہیں گے۔جمال خاشقجی کی صاحبزادیوں نے اپنے والد کو’’بابا‘‘کہہ کر یاد کیا، جو ایک محبت کرنے والے بڑے دل کے مالک تھے، وہ اکثر سفر میں رہتے اور واپسی پر اپنے ساتھ ‘تحائف اور متاثر کردینے والی کہانیاں لے کر آتے۔مقتول صحافی کی صاحبزادیوں کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے ہی جانتے تھے کہ ان کے الفاظ لوگوں کو کس قدر متاثر کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کے خیالات پر بحث کی جائے، جن کے لیے تصنیف، صرف ایک نوکری نہیں تھی بلکہ ضرورت تھی۔صاحبزادیوں کا کہنا تھا کہ ان کے الفاظ ہمارے ساتھ موجود ہیں جس کے لیے ہم شکر گزار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جمال خاشقجی نے امریکا میں ایک نئی زندگی کا آغاز کیا تھا لیکن وہ اپنے وطن ‘سعودی عرب’ کے حالات پر بہت غم زدہ رہتے تھے اور وہ اپنے وطن کے لیے کبھی بھی ناامید نہیں ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…