ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کا پہلا ہاتھی ہسپتال سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)شمالی بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک ہاتھی ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔ اس خصوصی ہسپتال نے باضابطہ طور پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس ہاتھی ہسپتال کے پہلے دن انچاس برس کی ایک ہتھنی کی ٹانگ پر لگی چوٹ کا علاج کیا گیا۔ اس ہتھنی کا نام آشا ہے۔ سینکڑوں افراد کے سامنے ہتھنی اپنی ٹانگ ایک اسٹول پر رکھ کر اپنے علاج کی کارروائی دیکھتی رہی۔

اْس نے اطمینان کے ساتھ اپنے معالج کو کام مکمل کرنے کا موقع دیا۔اس ہسپتال کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ ان میں وائرلیس سسٹم کے ساتھ قریبی جنگلات کے ساتھ رابطہ رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ایکس رے، تھرمل امیجنگ، الٹرا سونوگرافی اور بے ہوش کرنے والے آلات شامل ہیں۔ اسی ہسپتال میں کسی بھی بیمار ہاتھی کو بقیہ گلے سے علیحدہ کر کے مقید و پابند کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ہسپتال ایک طرف تو بیمار ہاتھیوں کو علاج فراہم کر رہا ہے تو دوسری جانب عام لوگوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاح بھی بیمار ہاتھیوں کے طریقہ؟ علاج کو دیکھنے کے لیے آنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اس کو ایک بڑا کارخیر خیال کرتے ہوئے حکومتی اقدام کی تعریف بھی کرتے ہیں۔بھارت میں جنگلی حیات کی غیر سرکاری تنظیم وائلڈ لائف ایس او ایس کی شریک بانی گیتا ساشمانی نے اس ہسپتال کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اْس ضرورت کا اظہار ہے کہ بھارتی جنگلات میں ہاتھیوں کو خصوصی نگہداشت اور حفاظت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بقیہ جنگلی حیات کو بھی اتنی ہی نگہداشت اور حفاظت کی ضرورت ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہ امر اہم ہے کہ ہاتھی بھارتی مذہبی ثقافت اور روزمرہ کی معاشرت میں ایک خاص مقام کا حامل ہے۔ مذہبی طور پر ہاتھی کو گنیش جی مہاراج کے طور پر پکارا جاتا ہے۔ جنوبی بھارت میں مذہبی رسومات کے ساتھ ثقافتی تہواروں پر ان کی شمولیت خاصی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔دوسری جانب کئی حقوق کی تنظیموں نے ہاتھی ہسپتال کے قیام کو ایک احسن اقدام قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاکھوں بے گھر، غریب اور مفلس افراد کو بھی علاج معالجے کی سہولیات پوری طرح میسر کی جائیں تا کہ وہ بھی بغیر کسی تکلیف اور مالی بوجھ کے علاج اور ادویات حاصل کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…