ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کرد ملیشیا کی حمایت امریکا کی بڑی غلطی قرار، ترکی

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

انقرہ(آئی این پی) ترک وزیر خارجہ چاووش اوغلو کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے شامی کردش ملیشیا وائے پی جی کی حمایت کرنا سب سے بڑی غلطی تھی،مذکورہ معاملہ نیٹو اختلافات کا سبب بنا،بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے شامی کردش ملیشیا وائے پی جی کی حمایت کرنا سب سے بڑی غلطی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ معاملے کی وجہ سے نیٹو اتحادیوں کے درمیان تنازعات شروع ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا ہے کہ وائے پی جی کی حمایت کیے جانے پر ترکی، امریکا سے سخت ناراض ہوا تھا، جسے وہ ترکی میں موجود کردش ورکر پارٹی کی جانب سے کئی دہائیوں سے جاری دہشت گردی میں مزید اضافے کی وجہ تصور کرتا تھا۔ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات شام کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسیوں کی وجہ سے کشیدگی کا شکار ہوئے، جس کے باعث ترکی میں امریکی پادری کی گرفتاری اور ترکی کی جانب سے امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کی تحویل کا مطالبہ سامنے آیا، جن پر 2016 کی ترک بغاوت کا الزام لگایا جاتا ہے۔ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو، جو ان دنوں امریکا کے سرکاری دورے پر موجود ہیں، کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی امریکا کی جانب سے وائی پی جی کے معاملے پر گولن کی حمایت کی وجہ سے ہے، جن کے خلاف ان کا کہنا تھا کہ گولن کے خلاف ایف بی آئی نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ جانتے ہوئے بھی کہ وائی پی جی، پی کے کے کا حصہ ہے اور اس کی حمایت کرنا ایک بڑی غلطی تھی’۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ امریکی ہم منصب مائیک پومپو کے ساتھ منگل کے روز دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کریں گے۔ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘اناطولو’ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ گزشتہ روز ترک وزیر دفاع حلوصی آکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی چیف آف اسٹاف جوزف ڈانفورڈ کو بتایا تھا کہ ترکی یہ امید کرتا ہے کہ امریکا وائی پی جی کی حمایت جلد از جلد بند کردے گا۔رپورٹ میں ترک وزیر دفاع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ‘ہم نے انہیں ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکی ہم منصب ضروری اقدامات اٹھائیں گے اور وائی پی جی سے اپنے تعلقات کو ختم کریں گے، جو پی کے کے سے علیحدہ نہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اہم انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ شام میں ہمارے اتحادی اور اسٹریٹجک شراکت دار، امریکا اور امریکی فوجیوں کی جانب سے وائی پی جی کی حمایت کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…