جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد نے دیا امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے خوفناک الزام عائد کرتے ہوئےکیا ثبوت سامنے لے آئی؟

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے براہ راست دیا تھا،امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے رپورٹ مرتب کر کے ٹرمپ کو بھجوا دی۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کو شروع سے ہی شک تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل میں محمد بن سلمان براہ راست ملوث ہیں لیکن

وہ ان پر براہ راست الزام لگانے میں پس و پیش سے کام لے رہی تھی ۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے رپورٹ مرتب کر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھجوا دی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے براہ راست دیا تھا، اپنے اس الزام کی توجیہہ میں سی آئی اے نے اپنی رپورٹ میں جواز پیش کیا ہے کہ محمد بن سلمان کا جس حد تک سعودی عرب پر کنٹرول ہے ، ان کی اجازت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ جمال خاشقجی کو اس طرح قتل کیا جاتا۔ سی آئی اے نے اپنے الزام کو تقویت دینے کیلئے 2 ٹیلیفون کالز کا حوالہ بھی دیا ہے جن میں سے ایک سعودی ولی عہد نے قتل سے کچھ روز پہلے کی تھی جبکہ دوسری کال قاتل ٹیم نے ولی عہد کے سینئر مشیر کو کی تھی ۔جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد ٹیم کے ایک رکن نے مشیر کو کال کرکے کہا ” اپنے باس سے کہو کہ مشن پورا ہوگیا ہے“۔اپنے اس الزام کی توجیہہ میں سی آئی اے نے اپنی رپورٹ میں جواز پیش کیا ہے کہ محمد بن سلمان کا جس حد تک سعودی عرب پر کنٹرول ہے ، ان کی اجازت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ جمال خاشقجی کو اس طرح قتل کیا جاتا۔ سی آئی اے نے اپنے الزام کو تقویت دینے کیلئے 2 ٹیلیفون کالز کا حوالہ بھی دیا ہے جن میں سے ایک سعودی ولی عہد نے قتل سے کچھ روز پہلے کی تھی جبکہ دوسری کال قاتل ٹیم نے ولی عہد کے سینئر مشیر کو کی تھی ۔جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد ٹیم کے ایک رکن نے مشیر کو کال کرکے کہا ” اپنے باس سے کہو کہ مشن پورا ہوگیا ہے“۔سعودی عرب اس سے پہلے بیان دے چکا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم ولی عہد محمد بن سلمان نے نہیں، بلکہ ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے دیا تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…