ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد نے دیا امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے خوفناک الزام عائد کرتے ہوئےکیا ثبوت سامنے لے آئی؟

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے براہ راست دیا تھا،امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے رپورٹ مرتب کر کے ٹرمپ کو بھجوا دی۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کو شروع سے ہی شک تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل میں محمد بن سلمان براہ راست ملوث ہیں لیکن

وہ ان پر براہ راست الزام لگانے میں پس و پیش سے کام لے رہی تھی ۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے رپورٹ مرتب کر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھجوا دی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے براہ راست دیا تھا، اپنے اس الزام کی توجیہہ میں سی آئی اے نے اپنی رپورٹ میں جواز پیش کیا ہے کہ محمد بن سلمان کا جس حد تک سعودی عرب پر کنٹرول ہے ، ان کی اجازت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ جمال خاشقجی کو اس طرح قتل کیا جاتا۔ سی آئی اے نے اپنے الزام کو تقویت دینے کیلئے 2 ٹیلیفون کالز کا حوالہ بھی دیا ہے جن میں سے ایک سعودی ولی عہد نے قتل سے کچھ روز پہلے کی تھی جبکہ دوسری کال قاتل ٹیم نے ولی عہد کے سینئر مشیر کو کی تھی ۔جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد ٹیم کے ایک رکن نے مشیر کو کال کرکے کہا ” اپنے باس سے کہو کہ مشن پورا ہوگیا ہے“۔اپنے اس الزام کی توجیہہ میں سی آئی اے نے اپنی رپورٹ میں جواز پیش کیا ہے کہ محمد بن سلمان کا جس حد تک سعودی عرب پر کنٹرول ہے ، ان کی اجازت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ جمال خاشقجی کو اس طرح قتل کیا جاتا۔ سی آئی اے نے اپنے الزام کو تقویت دینے کیلئے 2 ٹیلیفون کالز کا حوالہ بھی دیا ہے جن میں سے ایک سعودی ولی عہد نے قتل سے کچھ روز پہلے کی تھی جبکہ دوسری کال قاتل ٹیم نے ولی عہد کے سینئر مشیر کو کی تھی ۔جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد ٹیم کے ایک رکن نے مشیر کو کال کرکے کہا ” اپنے باس سے کہو کہ مشن پورا ہوگیا ہے“۔سعودی عرب اس سے پہلے بیان دے چکا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم ولی عہد محمد بن سلمان نے نہیں، بلکہ ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…