ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ماں آخر ماں ہوتی ہے! ائیر ہوسٹس سے دوران پرواز بچی کا بھوک سے بلکنا دیکھا نہ گیا، ایسا کام کر دیا کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا، تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

منیلا (نیوز ڈیسک) ائیر ہوسٹس جس ملک کی بھی ہو اس کے فرائض میں شامل ہے کہ مسافروں کا خیال رکھتے ہوئے انہیں کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرے، مسافروں کے ساتھ ائیر ہوسٹس کا رویہ بھی انتہائی شائستہ ہوتا ہے، ایک ائیر ہوسٹس سے جہاز میں بھوک سے بلکتی بچی دیکھی نہ گئی، اس واقعے کے بارے میں فلپائن کی 24 سالہ ائیرہوسٹس پتریشا اورگینو جو کہ فلپائن ائیر لائن میں کام کرتی ہیں نے بتایا اور سوشل میڈیا پر تصاویر بھی شیئر کیں،

اس ائیرہوسٹس کے مطابق چند دن پہلے جب فلائٹ محو پرواز ہوئی تو فلائٹ میں موجود ایک خاتون کی گود میں شیر خوار بچی نے اچانک رونا شروع کر دیا، جب اس ائیرہوسٹس نے بچی کی چیخ و پکار سنی تو وہ فوراً اس عورت کے پاس پہنچی اور چیخ و پکار کی وجہ پوچھی تو اس کی والدہ نے بتایا کہ بچی بھوک کی وجہ سے ایسا کر رہی ہے، ائیر ہوسٹس نے کہا کہ اس کی ماں نے روتے ہوئے مجھ سے کہا کہ اس وقت دودھ کا پیکٹ موجود نہیں ہے، ائیر ہوسٹس نے کہا کہ جہاز میں یہ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں پریشانی لاحق ہو گئی کہ اگر دودھ نہ ملا تو بچی رو رو کر برا حال کر لے گی، اس وقت میرے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ میں اسے اپنا دودھ پلا دوں، کیوں کہ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا، میں نے اس خاتون کو پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور کچن کی طرف چل پڑی، وہ بھی بچی کو لے کر وہاں پہنچ گئی، میں نے کچن میں پہنچ کر اس روتی ہوئی شیرخوار بچی کو اپنا دودھ پلایا اور جیسے ہی بچی کا پیٹ بھرا وہ چند ہی لمحوں میں سو گئی، ائیر ہوسٹس نے بتایا کہ میں نے دونوں کو واپس ان کی سیٹ پر بٹھا دیا تو اس موقع پر اس کی ماں نے نہایت ممنون ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ، ائیرہوسٹس نے کہا کہ میں نے اس واقعہ کے بعد اللہ کا شکر ادا کیا کہ جس نے مجھے شیرِمادر جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ ائیرہوسٹس نے جب بچی کو گود میں لے رکھا تھا تو اس نے تصویریں لے کر فیس بک پر شیئر کیں۔ یہ پوسٹ دیکھتے ہی لاکھوں لوگوں نے اس کے اس عمل کی خوب تعریف کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…