ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

صحافی خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد سعودی عرب سے آئے ڈیتھ سکواڈ نے لاش کیساتھ کیا سلوک کیا؟ترک صدر کے مزید تہلکہ خیز انکشافات

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

واشنگٹن/انقرۃ (نیوز ڈیسک)ترک صدر طیب اردگان نے کہا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات سعودی حکومت کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے آئے۔واشنگٹن پوسٹ کیلئے لکھے گئے اپنے کالم میں ترک صدر طیب اردگان نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ سعودی عرب کے 18 حکام صحافی کے قتل میں ملوث ہیں جنہیں ترکی کی حکومت کے حوالے کیا جانا چاہیے

تاکہ مقتول کی لاش کا پتہ لگایا جاسکے۔ترک صدر نے لکھا کہ صحافی کے قتل کے احکامات سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دئیے گئے جس پر عمل درآمد کرنے کیلئے 15 سعودی حکام استنبول پہنچے اور سعودی قونصل خانے کے 3 حکام کے ساتھ مل کر صحافی کو قتل کرکے لاش کو ٹھکانے لگانے کیلئے مقامی شخص کے حوالے کردی۔ترک صدر نے اپنے کالم میں مطالبہ کیا کہ جن 18 شہریوں کو سعودی عرب نے حراست میں لیا ہے انہیں قتل کے حکم دینے والے اور لاش سے متعلق تمام معلومات ہیں اس لیے ان 18 سعودی شہریوں کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔ ترکی لاش کی حوالگی، قتل کا حکم دینے اور لاش ٹھکانے لگانے والے مقامی شخص سے متعلق سوالات اْٹھاتا رہے گا۔دوسری جانب ترکی کے ایک اعلی اہلکار اور صدارتی مشیر یاسین اکتے کا کہنا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کردیے گئے ہیںترک صدر نے اپنے کالم میں مطالبہ کیا کہ جن 18 شہریوں کو سعودی عرب نے حراست میں لیا ہے انہیں قتل کے حکم دینے والے اور لاش سے متعلق تمام معلومات ہیں اس لیے ان 18 سعودی شہریوں کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔ ترکی لاش کی حوالگی، قتل کا حکم دینے اور لاش ٹھکانے لگانے والے مقامی شخص سے متعلق سوالات اْٹھاتا رہے گا۔دوسری جانب ترکی کے ایک اعلی اہلکار اور صدارتی مشیر یاسین اکتے کا کہنا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کردیے گئے ہیں تاکہ لاش کا کوئی سراغ نہ لگ سکے تاہم تیزاب سے لاش کے ٹکڑوں کو تحلیل کرنے کے فرانزک شواہد نہیں ملے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…