ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

صحافی خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد سعودی عرب سے آئے ڈیتھ سکواڈ نے لاش کیساتھ کیا سلوک کیا؟ترک صدر کے مزید تہلکہ خیز انکشافات

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

واشنگٹن/انقرۃ (نیوز ڈیسک)ترک صدر طیب اردگان نے کہا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات سعودی حکومت کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے آئے۔واشنگٹن پوسٹ کیلئے لکھے گئے اپنے کالم میں ترک صدر طیب اردگان نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ سعودی عرب کے 18 حکام صحافی کے قتل میں ملوث ہیں جنہیں ترکی کی حکومت کے حوالے کیا جانا چاہیے

تاکہ مقتول کی لاش کا پتہ لگایا جاسکے۔ترک صدر نے لکھا کہ صحافی کے قتل کے احکامات سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دئیے گئے جس پر عمل درآمد کرنے کیلئے 15 سعودی حکام استنبول پہنچے اور سعودی قونصل خانے کے 3 حکام کے ساتھ مل کر صحافی کو قتل کرکے لاش کو ٹھکانے لگانے کیلئے مقامی شخص کے حوالے کردی۔ترک صدر نے اپنے کالم میں مطالبہ کیا کہ جن 18 شہریوں کو سعودی عرب نے حراست میں لیا ہے انہیں قتل کے حکم دینے والے اور لاش سے متعلق تمام معلومات ہیں اس لیے ان 18 سعودی شہریوں کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔ ترکی لاش کی حوالگی، قتل کا حکم دینے اور لاش ٹھکانے لگانے والے مقامی شخص سے متعلق سوالات اْٹھاتا رہے گا۔دوسری جانب ترکی کے ایک اعلی اہلکار اور صدارتی مشیر یاسین اکتے کا کہنا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کردیے گئے ہیںترک صدر نے اپنے کالم میں مطالبہ کیا کہ جن 18 شہریوں کو سعودی عرب نے حراست میں لیا ہے انہیں قتل کے حکم دینے والے اور لاش سے متعلق تمام معلومات ہیں اس لیے ان 18 سعودی شہریوں کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔ ترکی لاش کی حوالگی، قتل کا حکم دینے اور لاش ٹھکانے لگانے والے مقامی شخص سے متعلق سوالات اْٹھاتا رہے گا۔دوسری جانب ترکی کے ایک اعلی اہلکار اور صدارتی مشیر یاسین اکتے کا کہنا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کردیے گئے ہیں تاکہ لاش کا کوئی سراغ نہ لگ سکے تاہم تیزاب سے لاش کے ٹکڑوں کو تحلیل کرنے کے فرانزک شواہد نہیں ملے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…