جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سری لنکا میں بحران شدت اختیارکرگیا، برطرف وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ سے بے دخلی کی کوششوں پر مزاحمت ، ہزاروں حامی پہرے پر موجود

datetime 28  اکتوبر‬‮  2018 |

کولمبو(آن لائن)سری لنکا کے برطرف وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے نے اتوار کے روز انہیں سرکاری رہائش گاہ سے بے دخلی کی کوششوں کی مزاحمت کی ہے اور بحران کے حل کیلئے اتحادیوں کی میٹنگ طلب کرلی ہے جبکہ ایسے میں باہر ان کے ہزاروں حامی بھی پہرہ دے رہے ہیں وکرما سنگے ،جو بقول ان کے ان کی جمعے کے روز ہونے والی برطرفی غیرقانونی ہے،

نے کالونی دور کی رہائش گاہ کو خالی کرانے کی ڈیڈ لائن نظرانداز کی ،اگر چہ ان کے متنازعہ جانشین نے نئی کابینہ کی نامزدگی سے قبل ایک اہم مندر میں مذہبی فرائض انجام دئیے۔دوسری جانب سری لنکا کے سپیکر پارلیمنٹ نے اتوار کے روز رانیل وکراماسنگھے کو ملک کا قانونی وزیر اعظم تسلیم کرلیا ہے جنہیں تین روز قبل صدر نے برطرف کرکے جزیرہ نماملک کو آئینی بحران سے دوچارکردیا ہے ۔سپیکر کارو جے سوریا نے کہا کہ وکراماسنگھے کی جانب سے سیکورٹی اور وزیر اعظم کا استحقاق برقرار رکھنے کی درخواست اس وقت تک درست ہے جب تک کہ ایک اور امیدوار پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت نہیں کرلیتا۔جے سوریا نے صدر متھری پالا سری سینا جنہوں نے جمعہ کے روز وکراماسنگھے کو برطرف کردیا تھا،کے نام لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ درخواست جمہوری اور شفاف ہے سری لنکا کے برطرف وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے نے اتوار کے روز انہیں سرکاری رہائش گاہ سے بے دخلی کی کوششوں کی مزاحمت کی ہے اور بحران کے حل کیلئے اتحادیوں کی میٹنگ طلب کرلی ہے جبکہ ایسے میں باہر ان کے ہزاروں حامی بھی پہرہ دے رہے ہیں وکرما سنگے ،جو بقول ان کے ان کی جمعے کے روز ہونے والی برطرفی غیرقانونی ہے، نے کالونی دور کی رہائش گاہ کو خالی کرانے کی ڈیڈ لائن نظرانداز کی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…