جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امارات،7پاکستانیوں کو بڑی سزاسنادی گئی، دوران تفتیش جرم کا اعتراف کیا ،ملزمان نے ایسی کیا حرکت کی تھی؟ افسوسناک انکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

دبئی(آئی این پی)اماراتی عدالت نے کروڑوں درہم کی چوری میں ملوث 7پاکستانیوں کو تین تین برس قید کی سزاسنا دی،ملزمان نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کیا تھا ،عدالت نے ٹھوس شواہد کی بنا پر ملزمان کو قید کی سزا سنائی۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اماراتی عدالت نے رقم ٹرانسفر کرنے والی گاڑی سے 1 کروڑ 40 لاکھ درہم چوری کرنے کے جرم سات پاکستانیوں کو تین تین برس قید کی سزا سنادی۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی کی عدالت نے بینک کی رقم لے جانے والی بکتر بند گاڑی سے بھاری رقم چوری کرنے کا الزام ثابت ہونے پر تین ڈرائیوروں سمیت 7 افراد کو قید کی سزا سنا دی۔اماراتی میڈیا کا کہنا تھا کہ رقم ٹرانسفر کرنے والی کمپنی کے مینیجر نے بکتر بند گاڑی چلانے والے پاکستانی ڈرائیور سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنا موبائل دبئی کے علاقے الغریر میں لگی اے ٹی ایم مشین کے پاس ہی چھوڑ گیا تھا۔منی ٹرانسفر کرنے والی کمپنی کے مینیجر نے گاڑی کی لوکیشن پتہ کی اور موقع پر پہنچے تو گاڑی موجود تھی لیکن 37 سالہ ڈرائیور 30 اور 39 سالہ دو پاکستانی ساتھیوں کے ہمراہ کروڑوں درہم لے کر فرار ہوگیا تھا۔اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ کمپنی مینیجر کی شکایت پر پولیس نے رواں برس جون میں کارروائی کرتے ہوئے تینوں پاکستانی شہریوں کو شارجہ سے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا تھا۔مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ پولیس نے چوری کی گئی 1 کروڑ 40 لاکھ درہم کی خطیر رقم کو منتقل کرنے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے جرم مزید 4 پاکستانیوں کو حراست میں لیا تھا۔دبئی پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم نے واردات کے دوران گاڑی میں لگے سیکورٹی کیمروں کے تار بھی کاٹ دئیے تھے تاکہ واردات کی ویڈیو نہ بن سکے۔اماراتی پولیس نے بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا تھا جس کے بعد عدالت نے ساتوں ملزمان کو تین تین برس قید کی سزا سنائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…