جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کیا چین امریکہ کی جگہ لینا چاہتا ہے، چین نے ایسا دھماکہ خیزاعلان کر دیا کہ سب حیران رہ گئے

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک ) امریکہ میں تعینات چینی سفیرنے کہا ہے کہ چین کسی کے خلاف تجارتی جنگ نہیں چاہتا ، امریکہ ہی کو تجاررتی جنگ کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے، دنیا کی بیس فیصد آبادی والے ملک کی ترقی چوری سے نہیں ہو سکتی،چینی عوام کی محنت چین کی ترقی کی اصل وجہ ہے۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق امریکہ میں چین کے سفیر زوئی تھین کھائی نے ایک انٹرویو میں

تجارتی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جنگ کا آغاز کرنے والے کا تعین کرنا بہت اہم ہے۔ چین کسی کے خلاف تجارتی جنگ نہیں چاہتا ، امریکہ ہی کو تجاررتی جنگ کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔دو طرفہ تجارت سے دونوں فریقین کو فوائد حاصل ہوئے ہیں ۔ چین اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے جوابی اقدامات اختیار کرنے پر مجبور ہے اس سوال پر کہ کچھ امریکی سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ چین کی ترقی دوسرے ممالک کی تکنیک چوری کرنے کے باعث ممکن ہوئی ہے، زوئی نے کہا کہ چینی عوام کی محنت چین کی ترقی کی اصل وجہ ہے۔یہ ایک عام فہم بات ہے کہ دنیا کی بیس فیصد آبادی والے ملک کی ترقی چوری سے نہیں ہو سکتی۔ امریکی فریق کو اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنا چاہیے۔بحر جنوبی چین میں دونوں ملکوں کی بحریہ کے جہازوں کے درمیان صف آرائی اور تائیوان کے لیے امریکہ کی طرف سے اسلحہ کی فروخت کا ذکر کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ مذکورہ صف آرائی چین کے دروازے پر ہی ہوئی،ایسا نہیں ہوا کہ چینی جنگی جہاز کیلیفورنیا کے ساحل پر پہنچے۔اس لیے کون غلط ہے اور کون درست ہے بالکل صاف عیاں ہے۔نامہ نگار نے پوچھا کہ کیا چین امریکہ کی جگہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ چینی حکومت کا مقصد اپنے عوام کے لیے خوشحالی لانا ہے نہ کہ کسی ملک کی حیثیت کو چیلنج کرنا ۔ہم امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ مل کر بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کرنے کو تیار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…