جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

خلائی مخلوق یا اڑن طشتری کا ظہور، چین میں رات گئے آسمان پر دکھائی دینے والے روشنی کے ہیولے نے شہریوں کو چونکا دیا ، حیرت انگیز انکشافات

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

بیجنگ(آئی این پی)چین کی سر زمین عجیب الخلقت اشیا کا محور بنتی جا رہی ہے، آئے روز کسی نئی شے کو زمین یا آسمان پر دیکھا جاتا ہے، چین میں گذشتہ شب آسمان پر دکھائی دینے والے روشنی کے ہیولے نے شہریوں کو چونکا دیا اور یہ شور مچ گیا کہ آیا یہ خلائی مخلوق، اڑن طشتری ہے یا کوئی اور شے ہے۔

تفصیلات کے مطابق کائنات میں دیگر مخلوقات بھی رہتی ہیں جنہیں خلائی مخلوق کہا جاتا ہے، اکثر و بیشتر دنیا کے کچھ ممالک میں ایسی چیزیں نظر فضا میں اڑتی ہوئی نظر آئیں ہیں جنہیں انسانوں نے اڑن طشتری تصور کرلیا۔ایسا ہی کچھ گذشتہ روز پڑوسی ملک چین کے شہر بیجنگ میں رات کے وقت ہوا جب آسمان پر نظر آنے والے روشنی کے ہیولے نے شہریوں کو حیرت مبتلا کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ بیجنگ شہر میں دکھائی دینے والا روشنی کا ہیولا چین کے دیگر شہروں میں بھی نظر سے دیکھا گیا ہے، جس کے بعد چینی شہری پریشان ہیں کہ نظر آنے والا روشنی کا ہیولا خلائی، اڑن طشتری یا کوئی اور شہ ہے۔خلائی مخلوق حقیقت میں وجود رکھتے ہیں یا نہیں آئیے عالمی خلائی ادارے ناسا کے ایک سابق سائنسداں کیون کنتھ سے جانتے ہیں۔کیون کنتھ کا کہنا ہے کہ خلائی مخلوق نہ صرف موجود ہیں بلکہ کئی بار انسانوں کا ان سے سامنا بھی ہوچکا ہے، جس کے بے شمار ثبوت موجود ہیں لیکن حکومتوں نے اس بات کو خفیہ رکھا ہوا ہے۔اپنے مضمون میں انہوں نے کہا کہ ہمیں اس امکان کو تسلیم کرلینا چاہیئے کہ کچھ ایسے اجنبی اڑنے والے آبجیکٹس (آسان الفاظ میں اڑن طشتریاں)موجود ہیں جو ہمارے ایجاد کردہ ایئر کرافٹس سے کہیں بہتر ہیں۔پروفیسر نے کہا کہ خلائی مخلوق ایک حقیقت ہیں کیونکہ ہماری کائنات میں 300 ارب ستارے موجود ہیں، اور ان میں سے کچھ یقیناًایسے ہوں گے جہاں زندگی موجود ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…