جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

شمالی کوریا پر عائد پابندیاں نہیں اٹھا رہے،جنوبی کوریا کی وضاحت

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

سیؤل(انٹرنیشنل ڈیسک)جنوبی کوریا نے واضح کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر سے وہ پابندیاں اٹھانے پر غور نہیں کر رہا جو 2010ء میں جنوبی کوریا کے ایک جنگی جہاز کو ڈبونے کے الزام پرعائد کی گئی تھیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق چو میونگ گیون کی جانب سے یہ وضاحت ملکی پارلیمان کے ارکان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد سامنے آئی ۔

رکانِ پارلیمان کو اس معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق چو میونگ گیون نے واضح کیا کہ پابندیوں کا خاتمہ جہاز ڈوبنے کے واقعے پر شمالی کوریا کے اقدامات سے مشروط ہے۔جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق نے صدر ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔البتہ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ دونوں کوریاوں کے درمیان بات چیت اور وفود کے تبادلوں کا مخالف نہیں اور سول حکومت اس پیش رفت پر وشنگٹن ڈی سی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔لیکن چو میونگ گیون نے تسلیم کیا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان سرحدی کشیدگی کم کرنے کے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جو دونوں ملکوں کے سربراہان کے درمیان گزشتہ ماہ طے پایا تھا۔پابندیاں اٹھانے کا عندیہ جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کانگ کیونگ وہا نے بدھ کو دیا تھا۔ اپنے بیان میں وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک ان پابندیوں کا جائزہ لے رہا ہے جو 2010ء میں شمالی کوریا پر عائد کی گئی تھیں۔جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کی جانب سے ان پابندیوں کو اٹھانے کا عندیہ دینے کے بعد جنوبی کورین پارلیمان کے قدامت پسند ارکان نے سخت احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ پابندیاں اس وقت تک نہیں اٹھائی جانی چاہئیں جب تک شمالی کوریا جہاز پر حملے کی معافی نہیں مانگ لیتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…