جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ : ایک کروڑ 60لاکھ پاؤنڈ کی شاپنگ کرنیوالی خاتون سے تفتیش کا آغاز

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

لندن(انٹرنیشنل ڈیسک)برطانیہ میں انسداِدِ بدعنوانی کے نئے قانوں کا پہلا نشانہ بننے والی اس خاتون کا نام ظاہر کر دیا گیا ہے جو لندن میں اپنا 11.5 ملین پاؤنڈ کا گھر بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ضمیرہ حاجی ایوا کا تعلق آذربائیجان سے ہے۔ وہ اپنا نام مخفی رکھنے کی قانونی جنگ ہار گئیں کیونکہ میڈیا کی طرف سے اصرار کیا گیا تھا کہ برطانیہ کے عوام کو مکمل حقائق کا علم ہونا چاہیے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق حاجی ایوا آذربائیجان کے ایک سرکاری بینکار کی اہلیہ ہیں اور انھوں نے دس برس کے دوران لندن میں واقع مشہور سٹور ہیرڈز میں 16 ملین پاؤنڈ خرچ کیے۔ انھوں نے سٹور کے قریب ایک گھر اور برکشائر میں ایک گالف کورس بھی خریدا۔ہائی کورٹ نے انھیں حکم دیا کہ وہ بتائیں کہ ان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی۔ اگر وہ یہ ذریعہ نہ بتا پائیں تو ان کی جائیداد چھن جانے کا خطرہ ہے۔برطانیہ کے نئے قانون ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر (وہ دولت جس کی وضاحت نہ کی گئی ہو) کے تحت 55 سالہ مسزحاجی ایوا کو اب نیشنل کرائم ایجنسی کو واضح تفصیل فراہم کرنی ہے کہ انھوں نے اور ان کے شوہر جہانگیر حاجی ایوا نے لندن کے مہنگے علاقے نائٹس برج کے قریب اتنا بڑا گھر کیسے خریدا۔مسز حاجی ایوا کے وکلا ء نے کہاکہ نئے قانون کا مطلب یہ نہیں ہے کہ (ان کی موکلہ یا ان کے شوہر نے) کوئی گڑبڑ کی ہے۔ انھوں نے اس قانون کے خلاف اپیل کی بھی اجازت مانگی ہے۔نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقاتی ٹیم کا خیال ہے کہ کرپشن کی رقم سے برطانیہ میں اربوں پاؤنڈ کی جائیدادیں خریدی گئی ہے لیکن ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ان جائیدادوں کے مالکان پر مقدمہ چلانا یا اثاثوں کو ضبط کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…