جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

داعش کی ستم رسیدہ یزیدی لڑکی کونوبل انعام دے دیا گیا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

سٹاک ہوم(انٹرنیشنل ڈیسک)سال 2018ء کا امن کا نوبل انعام مشترکہ طور پر عراق کی ایک یزیدی خاتون نادیہ مراد کو ملا ہے جو شدت پسند گروپ داعش کے چنگل میں رہنے کے بعد اب جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے مہم شروع کر رکھی ہے۔ پاکستانی ملالہ یوسف زئی کے بعد نادیہ مراد بھی ایک کم عمر لڑکی ہیں جنہیں امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔ 2014ء میں ملالہ یوسف زئی کو

امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نادیہ کو دولتِ اسلامیہ داعش کے شدت پسندوں نے ریپ کیا تھا اور ان کے چنگل سے نکلنے کے بعد انھوں نے یزیدی برادری پر ہونے والے ظلم کے خلاف عالمگیر مہم کا آغاز کر دیا تھا۔اس کے علاوہ یہ انعام مشترکہ طور پر افریقی ملک کانگو کے گائناکالوجسٹ ڈینس مْکویگے کو دیا گیا جنھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہزاروں متاثرین کا علاج کیا ۔اس سال 331 افراد اور اداروں کو اس انعام کے لیے نامزد کیا تھا جن میں سے نادیہ مراد اور ڈینس مکویگے کا انتخاب ہوا ۔ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی کے سربراہ بیرٹ رائس اینڈرسن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ انعام جنسی تشدد کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف جدوجہد’ کے صلے میں دیا گیا ہے۔رائس اینڈرسن نے کہا کہ دونوں انعام یافتگان نے ایسے جنگی جرائم پر توجہ مرکوز کروانے اور ان کا مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔اس موقعے پر ملالہ یوسفزئی نے بھی نادیہ مراد کو مبارک باد دی ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ملالہ نے لکھا کہ ان کے کام نے زندگیاں بچائی ہیں اور عورتوں کو جنسی تشدد کے خلاف بولنے پر آمادہ کرنے میں مدد دی ہے۔نادیہ مراد نومبر 2014 میں دولتِ اسلامیہ کی قید سے آزاد ہوئی تھیں اور اس کے بعد سے وہ انسانی سمنلنگ کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…