جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

1954ء میں افغان حکمران، افغانستان کی پاکستان میں شمولیت یا انضمام کیوں چاہتے تھے؟ کیا وجہ تھی کہ پاکستان کے چوتھے وزیراعظم چوہدری محمد علی نے انکار کر دیا؟ امریکی خفیہ دستاویزات منظر عام پر آ گئیں، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 4  اکتوبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً خفیہ دستاویزات سامنے لائی جاتی ہیں جن میں ایسی معلومات سامنے لائی جاتی ہیں جن کے عام ہونے سے امریکہ کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچتا ہے، امریکی خفیہ دستاویزات میں 1954ء کے وہ سفارتی مراسلے بھی شامل ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ

افغانستان کی طرف سے پاکستان کا حصہ بننے کی کوشش کی جا رہی تھی اور اس سلسلے میں امریکہ سے بھی مدد مانگی جا رہی تھی۔ 14 اکتوبر 1954ء کے ایک سفارتی مراسلے جس کا عنوان تھا، افغانستان پاکستان انضمام، اس میں لکھا گیا کہ افغانستان کے وزیر خارجہ کی طرف سے درخواست کی گئی ہے کہ افغانستان کا پاکستان کے ساتھ انضمام کر دیا جائے اور اس ضمن میں امریکہ سے مدد کی درخواست کی گئی ہے، اس مراسلے میں کہا گیا کہ اُن کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کو سوویت اقتصادی قبضے سے محفوظ رکھنے کا یہ واحد راستہ ہے اور اس ملک کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بھی بن چکا ہے، اس مراسلے میں کہا گیا کہ پاکستان کے وزیراعظم محمد علی، جن سے پہلے بھی رابطہ کیا گیا ہے، اس منصوبے کو مشکوک محسوس کرتے ہیں۔ ایک اور مراسلے میں لکھا گیا کہ دراصل افغان اور پاکستانی حلقوں کے درمیان کسی قسم کی کنفیڈریشن پر بات ہوئی ہے لیکن اس بات کا کم امکان ہے کہ کراچی اور کابل کے حکام انضمام پر اتفاق کرپائیں گے، مراسلے میں لکھا گیا کہ اس کی وجہ دونوں کی اندرونی پیچیدگیاں اور سوویت و بھارتی مخالفت ہے۔ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی خفیہ دستاویزات میں مزید بہت سے انکشافات موجود ہیں۔  امریکہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً خفیہ دستاویزات سامنے لائی جاتی ہیں جن میں ایسی معلومات سامنے لائی جاتی ہیں جن کے عام ہونے سے امریکہ کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…