ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

جرمنی سے مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے منصوبے میں توسیع

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

برلن(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمنی کی وفاقی حکومت نے پناہ کے متلاشی افراد کی رضاکارانہ طور پر وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے شروع کردہ پروگرام اسٹارٹ ہلفے پلس کی مدت بڑھا کر رواں برس اکتیس دسمبر کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسٹارٹ ہلفے پلس نامی یہ منصوبہ سیاسی پناہ کی تلاش میں جرمنی کا رخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی رضاکارانہ بنیادوں پر

وطن واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا عنوان آپ کا وطن آپ کا مستقبل ابھی رکھا گیا ہے اور رضاکارانہ واپسی کی صورت میں تین ہزار یورو تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔یہ منصوبہ گزشتہ برس شروع کیا گیا تھا اور ششماہی بنیادوں پر اس میں توسیع کی جاتی رہی تھی، تاہم اب اس کی مدت ستمبر کے اختتام میں ختم ہو جانا تھی۔ وفاقی جرمن وزارت خارجہ نے جمعے کے روز اس منصوبے کی مدت میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد جرمنی میں تارکین وطن کے سماجی انضمام کے منصوبوں کی بجائے ان کی اپنے اپنے وطنوں کی جانب واپسی سے متعلق منصوبوں پر توجہ مرکوز کر دی تھی۔ رواں برس مارچ میں اسٹارٹ ہلفے پلس جیسے منصوبوں کے لیے پانچ سو ملین یورو کی اضافی رقم مختص کی گئی تھی۔بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) اور بی اے ایم ایف کے مشترکہ تعاون سے شروع کیے گئے اس منصوبے میں رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے تارکین وطن کو تین ہزار یورو تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ منصوبے کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو وطن واپسی کی صورت میں اپنے آبائی وطن میں ایک برس تک رہائش کے لیے مکان کا کرایہ بھی دیا جاتا ہے۔تاہم یہ امر بھی اہم ہے کہ امدادی رقم کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ تارک وطن کی جرمنی میں کیا حیثیت ہے۔ سب سے زیادہ رقم ایسے افراد کو دی جاتی ہے جن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس کے مقابلے میں ایسے افراد کو، جن کی کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں اور انہیں بہرصورت جرمنی سے واپس بھیج دیا جانا ہے، زیادہ سے زیادہ بارہ سو یور تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…