جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

دمشق کا فوجی ہوائی اڈا زور دار دھماکوں سے لرز اٹھا

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

دمشق(انٹرنیشنل ڈیسک)شامی دارلحکومت دمشق کے مغربی علاقہ المزہ میں واقع فوجی ہوائی اڈا اتوار کی صبح زور دار دھماکوں سے لرز اٹھا، جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کو غیر معمولی نقصان پہنچا ،دھماکوں کے فوری بعد ایمبولینسں گاڑیاں اور امدادی ٹیموں کے ارکان المزہ فوجی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے۔ادھر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ المزہ فوجی اڈے پر حملہ اسرائیل کی طرف سے کیا گیا ہے۔

مغربی دمشق میں واقع المزہ فوجی اڈے پر مبینہ میزائل حملوں کے بعد آس پاس کے شہری خوف زدہ ہو گئے۔ دھماکوں کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ان کے نتیجے میں فوجی اڈے سے دھواں اور آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے۔شام کے سرکاری میڈیا پر نشر خبروں میں بتایا گیا کہ ائر پورٹ کو ایک اندھے میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کو غیر معمولی نقصان پہنچا ۔سوشل میڈیا پر شائع کی گئی خبروں میں بتایا گیا کہ المزہ فوجی اڈے پر کم سے کم تین میزائل گرے۔ ان میں سے ایک میزائل فوجی اڈے کے اسلحہ گودام پر گرا جس کے نتیجے میں اسلحہ اور گولہ باردو کو نقصان پہنچا۔دھماکوں کے فوری بعد ایمبولینسں گاڑیاں اور امدادی ٹیموں کے ارکان المزہ فوجی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے۔ادھر شام میں انسانی حقوق معاملات سے متعلق نگرانی کرنے والی آبزرویٹری کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ المزہ فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ کس نے کیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ رات گئے متعدد میزائل المزہ فوجی اڈے پر گرے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ کس نے کیا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا تھا کہ المزہ فوجی اڈے پر حملہ اسرائیل کی طرف سے کیا گیا ہے۔مغربی دمشق میں واقع المزہ فوجی اڈے پر مبینہ میزائل حملوں کے بعد آس پاس کے شہری خوف زدہ ہو گئے۔ دھماکوں کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ان کے نتیجے میں فوجی اڈے سے دھواں اور آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…