جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

یمن اور دوسرے ملکوں میں مداخلت پر ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی،امریکہ

datetime 29  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یمن اور دوسرے ملکوں میں مداخلت پر ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یمن میں عرب اتحاد کی حمایت کا جائزہ لیا ہے اور اس کے نزدیک یہ حمایت ایک درست اقدام ہے۔میڈیارپورٹس کے مطاق وہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان میں منگل کے روز ایک بریفنگ کے دوران میں گفتگو کررہے تھے۔

انھوں نے کہاکہ ہم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عرب اتحاد کی حمایت کا جائزہ لیا تھا اور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ان ممالک کے دفاع کے علاوہ یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے بھی یہ حمایت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا یمن میں انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرنا چاہتا ہے اور اس کا تعلق اس علاقے سے ہے جہاں وہ عرب اتحاد کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ جیمز میٹس نے کہاکہ یمن میں اگرعمومی بات کی جائے تو ہم نے جنگ سے خود کو دور رکھا ہے۔ ہم نے جزیرہ نما عرب میں داعش اور القاعدہ کو شکست دینے پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے اور ہم نے وہاں کارروائیاں کی ہیں۔امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکا، یمن میں شہری نقصانات کو کم سے کم کرنا چاہتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ یمن میں جاری بحران جلد از جلد اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہو جائے۔شام کے حوالے سے جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق روس سے انتہائی عملی نوعیت کے رابطے استوار کئے ہیں۔ میٹس کے بقول امریکا چاہتا ہے شامی عوام کو ایسی حکومت چننے کا اختیار ملے، جس کے قیادت بشار الاسد نے ہاتھ میں نہ ہو۔انھوں نے کہا کہ ترکی کی جانب سے روس سے طیارہ اور میزائل شکن دفاع سسٹم کا حصول امریکا کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ واشنگٹن پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر انقرہ نے ’’لاک ہیڈ مارٹن‘‘ کمپنی کے تیارکردہ لڑاکا جہاز خریدے تو اسے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ترکی، روس سے متذکرہ دفاعی سسٹم خریدنے سے باز رہے۔صحافیوں سے گفتگو میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ نیٹو کا رکن ملک ہوتے ہوئے ترکی میزائل اور طیارہ شکن سسٹم روس سے خریدنے جا رہا ہے ۔ ایسے ہم نیٹو کے رکن ملک کے دفاع سسٹم کا حصہ بنتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ جی ہاں، اس بات پر ہمیں پریشانی ہے اور امریکا، اس سسٹم کے حصول کی تجویز کی کبھی حمایت نہیں کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…