جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ہالینڈ کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سے خود کو الگ کرلیا

datetime 25  اگست‬‮  2018 |

دی ہیگ(انٹرنیشنل ڈیسک) ہالینڈ کے وزیر اعظم نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سے اپنی حکومت کو الگ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق رواں سال جون میں ہالینڈ کی اسلام مخالف جماعت فریڈم پارٹی آف ڈچ کے متنازع رہنما گیرٹ ولڈرز نے پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانے کا قبیح اعلان کیا تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے پریس کانفرنس کے دوران کہا۔

گیرٹ ولڈرز حکومت کے رکن نہیں اور نہ ہی یہ مقابلہ حکومت کا فیصلہ ہے۔مارک روٹے نے گیرٹ ولڈرز کی جانب سے اس متنازع مقابلے کے انعقاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گیرٹ ولڈرز کا مقصد اسلام سے متعلق بحث کا آغاز نہیں بلکہ جذبات کو بھڑکانہ ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہالینڈ میں لوگوں کو آزادی اظہار کی دیگر ممالک سے کئی گنا زیادہ آزادی ہے اور گیرٹ ویلڈرز بھی ایسا کرنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن کابینہ یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ یہ اس کا اقدام نہیں ہے۔واضح رہے کہ کہ ہالینڈ کے وزیر اعظم کی جانب سے یہ بیان متنازع مقابلے کے بعد پاکستان کی طرف سے شدید غم و غصے کے اظہار کے بعد سامنے آیا ٗپاکستان نے 20 اگست کو گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے انعقاد کے معاملے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسلامی شعائر کی تضحیک پر پاکستان نے ہالینڈ کی حکومت سے شدید تشویش کا اظہار کیا اور ہالینڈ کے ناظم الامور کو وفاقی کابینہ کے احتجاج اور فیصلے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔دفتر خارجہ کی جانب سے ہالینڈ میں تعینات پاکستانی سفیر کو حکومت اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سفرا کے ساتھ بھی معاملہ اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…