ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ایرانی رکن پارلیمنٹ کا رفسنجانی کی موت کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ

datetime 19  اگست‬‮  2018 |

تہران(این این آئی)ایران کی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایک سرکردہ رکن علی مطہری نے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی وفات کے اسباب کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاشمی رفسنجانی کی وفات کے بارے میں سرکاری موقف مشکوک اور ناقابل اعتبار ہے۔ ایران کی انٹیلی جنس وزارت رفسنجانی کی موت کے حقیقی اسباب کا پتا

چلانے کے لیے جامع اور آزادانہ تحقیقا کرائے۔اپنے ایک حالیہ مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی کو بعض ذرائع سے دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگرانہوں نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کیے تو ان کا انجام بھی رفسنجانی جیسا ہوگا۔ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو بھی کسی سازش کے تحت مارا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی امریکا اور مغرب سے مذاکرات کے حامی تھے۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ شک اب بھی موجود ہے کی علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی موت طبیعی نہیں تھی۔ انہوں نے ’قْم‘ شہر کے ایک مذہبی مدرسے کے شدت پسند مذہبی رہ نما کی طرف سے جاری کردہ دھمکی آمیز بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے صدر روحانی کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات نہ کریں ورنہ ان کا انجام بھی رفسنجانی جیسا ہوگا۔علی مطہری کا کہنا ہے کہ اگر رفسنجانی کی موت طبعی نہیں تھی توحکومت کو ان کی موت کے اسباب ومحرکات جاننے کے لیے آزادانہ تحقیقات کرانی چاہئیں۔خیال رہے کہ سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجان اتوار 8 جنوری 2017ء کو 83 سال کی عمرمیں انتقال کرگئے تھے۔ سرکاری بیان کے مطابق رفسنجانی کو وفات سے قبل تہران کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رفسنجانی کی موت کا سبب دل کی تکلیف نہیں تھی۔ انہیں امریکا اور عرب ممالک سے مذاکرات کے مطالبے پرایک سازش کے تحت مارا گیا۔رفسنجانی کے ایک سابق مشیر غلام علی رجائی نے 9 جون کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ علی رفسنجانی کی موت کے اسباب طبیعی نہیں تھے بلکہ ان کی موت مشکوک انداز میں ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…