جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

وہ اب بھی مجھے خوابوں میں نظر آتی ہیں اور میری چیخیں نکل جاتی ہیں، گوانتاناموبے جیل میں امریکی عورت میرے ساتھ کیا کرتی رہی؟ پرویز مشرف کے دور حکومت میں امریکہ کے حوالے کیے جانیوالے مراکشی باشندے کے لرزہ خیز انکشافات

datetime 13  اگست‬‮  2018 |

رباط (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں سینکڑوں لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا ان میں ایک مراکش کا باشندہ بھی تھا، جسے باقی لوگوں کے ساتھ گوانتاناموبے جیل میں قید کر دیا گیا تھا، یہ لوگ ایک عرصہ تک جیل میں ان کے مظالم سہتے رہے لیکن ان کا دہشت گردی سے تعلق ثابت نہ ہو سکا۔

اس مراکشی باشندے کے بارے میں برطانیہ کے ایک اخبار دی میٹرو نے لکھا کہ تین سال قبل امریکی جیل گوانتاناموبے سے رہائی پانے والا یہ شخص بتاتا ہے کہ 13 سال کی قید کے دورا ن اتنی بار مجھ پر تشدد کیا گیا کہ جسے میں شمار ہی نہیں کر سکتا۔ وہاں اینا نامی ایک خاتون تھی جو امریکی تفتیش کار تھی اور اکثر مجھے پھانسی پر لٹکانے کی دھمکی دیتی تھی۔ اس شخص نے بتایا کہ مجھے اب بھی وہ ڈراؤنے خوابوں میں نظر آتی ہے اور میں چیختا ہوا جاگ جاتا ہوں۔ اس شخص نے بتایا کہ وہاں کیمپ کے گارڈ اپنے جوتوں سے مجھے مارتے تھے اور ہنستے تھے۔ اس شخص نے بتایا کہ میں اپنے انتہائی تنگ لباس کے بارے میں جب بھی شکایت کرتا، کیونکہ میں اس لباس کی وجہ سے تکلیف میں رہتا تھا، وہ لوگ ایسا ہی کرتے تھے، وہ لوگ کہتے تھے کہ میں اگر یہ مان جاؤں کہ میرا تعلق القاعدہ سے ہے تو میری جان چھوٹ جائے گی مگر میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ میرا دہشت گردی سے کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔ وہ شخص اپنے جیل میں پہنچنے کے بارے میں بتاتا ہے کہ 2002ء میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو میں اور میری اہلیہ مراکش سے وہاں آئے ہوئے تھے اور کسی غیر ملکی امدادی ایجنسی میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس شخص نے بتایا کہ جنگ کی وجہ سے ہم پاکستان فرار ہوگئے جہاں سکیورٹی فورسز نے ہمیں گرفتار کر لیا۔ اس شخص نے بتایا کہ ہمیں غیر ملکی جنگجو قرار دے کر پانچ ہزار ڈالر انعام کے بدلے امریکہ کو فروخت کردیا گیا۔ اس شخص نے بتایا کہ مجھے بات میں پتہ چلا کہ ایسا صرف ہمارے ساتھ نہیں ہوا بلکہ ایسے سینکڑوں افراد تھے جنہیں فروخت کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…