جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی سپریم لیڈر نے ’آمرانہ‘ اقتصادی عدالت کے قیام کی منظوری دے دی

datetime 12  اگست‬‮  2018 |

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)ایران کے رہ براعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوڈیشل کونسل کے چیف کی تجویز کردہ اقتصادی عدالت کے قیام کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس عدالت کی طرف سے جاری کردہ فیصلے فوری نافذ العمل ہوں گے اور اْنہیں کسی دوسری عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا۔ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق سپریم لیڈر نے اقتصادی عدالت کے جلد از جلد قیام کے احکامات دیے ہیں۔

خصوصی اختیارات کی حامل اس عدالت کے پاس ملزمان کو سزائے موت دینے کے سوا باقی تمام سزائیں دینے کے وسیع اختیارات ہوں گے۔ ایرانی جوڈیشل کونسل کے سربراہ صادق آملی لاری جانی نے اقتصادی مفاسد کے خاتمے کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔ تجویز کے مطابق خصوصی اقتصادی عدالت انقلاب عدالت کے تین ججوں پر مشتمل ہوگی۔ اس عدالت کی طرف سے جاری ہونے والے فیصلے قطعی اور حتمی ہوں گے جنہیں کسی دوسری عدالت میں اپیل کے طورپر چیلنج نہیں کیاجاسکے گا۔ تاہم ایک ذیلی تجویز میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ صادر ہونے کے بعد صرف دس دن کے اندر اندر اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکے گا۔سپریم لیڈر اور جوڈیشل کونسل کا کہنا تھا کہ اقتصادی عدالت کی منظوری سے ملک میں معاشی نوعیت کے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔ماہرین کا کہناتھاکہ ایرانی سپریم لیڈر کی طرف سے خصوصی اقتصادی عدالت کے قیام کا حکم ایرانی دستور اور عدلیہ کے ضابطہ کار کے خلاف ہے کیونکہ ایران کے مروجہ قانون کے مطابق تمام عدالتوں کے فیصلوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…