جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’پیرس میں ہم جنس پرستوں کی عالمی گیمز کا آغاز‘‘ کونسے مسلم ممالک کے ’’ہم جنس پرست‘‘ایتھلیٹس فرانس پہنچ گئے نام جان کر آپ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائینگی

datetime 7  اگست‬‮  2018 |

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں’’ہم جنس پرستوں کی عالمی گیمز‘‘کا آغاز، مسلمان ممالک سعودی عرب، مصر اور دیگر ممالک سے بھی ہم جنس پرست ایتھلیٹس کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ’’ہم جنس پرستوں کی عالمی گیمز‘‘کا آغازہو گیا ہے جس میں دنیا بھر سے ہزاروں ایتھلیٹس کھیلوں میں حصہ لینے

کیلئے پیرس میں موجود ہیں جبکہ ان ایتھلیٹس میں کئی مسلمان ممالک سے بھی ایتھلیٹس حصہ لینے کیلئے پیرس میں موجود ہیں۔ مسلمان ممالک سے کھیلوں میں حصہ لینے کیلئے پیرس آنیوالے ایتھلیٹس کا تعلق سعودی عرب، مصراور دیگر ممالک سے ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق پیرس میں یہ نو روزہ گیمز بارہ اگست تک جاری رہیں گی۔ ان میں شریک ایتھلیٹوں کی تعداد بارہ ہزار سات سو ہے۔ یہ ہزاروں ایتھلیٹس چھتیس مختلف ڈسپلنز میں حصہ لیں گے ان کھیلوں کا نگران ادارہ فیڈریشن آف’’ گَے گیمز ‘‘ہے۔ ادارے کو پیرس گیمز سے سڑسٹھ ملین ڈالر تک کی آمدن کی توقع ہے۔چار اگست کو ’’گَے گیمز‘‘ میں شریک ہم جنس پرست خواتین و حضرات نے ایک خصوصی مارچ پریڈ میں حصہ لیا۔ افتتاح کے موقع پر رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کی مہمان خصوصی پیرس شہر کی میئر این ہیڈالگو تھیں۔ افتتاحی تقریب میں ڈانس شوز کے علاوہ جسمانی پھرتی یعنی ایکروبیٹس کے مظاہرے بھی شامل تھے۔دسویں گیمز میں ساڑھے بارہ ہزار سے زائد ایتھلیٹوں کا تعلق 91 ممالک سے ہے۔ شریک ایتھلیٹوں میں ٹین ایجروں سے لے کر قدرے بڑی عمر کے ہم جنس پرست بھی شریک ہیں۔سخت اسلامی قوانین کے حامل ملک سعودی عرب سے بھی ایک ہم جنس پرست ایتھلیٹ پیرس پہنچا ہوا ہے۔ اس نے اپنا سعودی پاسپورٹ بھی شرکاءکے سامنے پیش کیا۔ واضح رہےکہ سعودی عرب میں ہم جنس پرستی کی سزا موت ہے۔ مصر سے بھی ایک ہم جنس پرست ایتھلیٹ کھیلوں کا حصہ بنا ہےجہاں ایسے افراد کو جیل کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…