جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کویت کی دریا دلی، اہم اسلامی ملک کو صرف بجلی کا بحران ختم کرنے کے لئے 40ارب ڈالر دے ڈالے لیکن پھر اس رقم کا کیا ہوا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 24  جولائی  2018 |

بغداد(این این آئی)عراقی حکومت توانائی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود توانائی بْحران پرقابو پانے میں بری طرح ناکام ہے۔ حکومت کی بد انتظامی، کرپشن اور بجلی کے بحران کے حل میں عدم دلچسپی کے نتیجے میں عوام میں سخت غم وغصہ بھی پایا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کے پیچھے دیگر محرکات میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن بھی بتایا جاتا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق عراق میں

توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پڑوسی خلیجی ملک کویت نے بغداد کی مدد کا فیصلہ کیا ۔جنوبی عراق کی سرحد گذرگاہ سفوان کے ایک با خبر ذریعے نے بتایا کہ کویت کی طرف سے عراق کو 17 پاور پلانٹ مہیا کیے گئے ہیں تاکہ بصرہ گورنری اور دوسرے علاقوں میں بجلی کے بحران پرقابو پایا جا سکے۔ایک سوال کے جواب میں ذرائع نے بتایا کہ کویت کی طرف سے مہیا کردہ پاور پلانٹ روزانہ 34 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکیں گے۔گذرگاہ کی انتظامیہ وفاقی حکومت کی طرف سے پاور پلانٹ نصب کے احکامات کی منتظر ہے۔خیال رہے کہ عراق کے جنوبی علاقے البصرہ میں گذشتہ کئی روز سے احتجاج جاری ہے۔ دو ہفتے سے علاقے کو ایرانی بجلی کی سپلائی لائن معطل ہے جس کے نتیجے میں عوام میں غم وغصہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔درایں اثناء عراقی شیعہ سیاست دان مقتدیٰ الصدر کے سیاسی اتحاد السائرون نے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں کے مطالبات کوآئینی قرار دیا ہے۔ سائرون کے صدر ڈاکٹر حسن العاقولی نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مظاہرین کے مطالبات کو آئینی قراردیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف مظاہرین اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے احتجاج پر مجبور ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…