جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

محبت اندھی ہوتی ہے !بھارتی عدالت نے محبت کرنے والے جوڑے کے خلاف کالج کا داخلہ منسوخ کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ سنادیا

datetime 22  جولائی  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کی جنوبی ریاست کریالہ کی ایک عدالت نے مقامی کالج کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محبت کرنے والے نوجوان جوڑے کا داخلہ بحال کردیا۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق کالج انتظامیہ کی جانب سے 21 سالہ لڑکے اور 20 سالہ لڑکی کو محبت کرنے پر تعلیمی ادارے سے بے دخل کردیا گیا تھا۔عدالت کے مطابق آزادی اور نجی معاملات کا خیال رکھنا چاہیے، تعلیمی ادارے کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ

محض محبت کرنے پر طالب علموں کا داخلہ منسوخ کردے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ محبت اندھی ہوتی ہے اور یہ انسانی جذبات سے جڑی ہے ٗان کی محبت سے تعلیمی ادارے کو نقصان نہیں پہنچا اور اس ضمن میں کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیے جاسکے ٗ اس لیے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔سی ایچ ایم ایم کالج فار ایڈوانس اسٹیڈیز کے 21 سالہ طالب علم نے کورٹ میں پٹیشن دائر کی، جس میں کالج کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، طالب علموں کے والدین نے بھی کالج کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ٗکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کالج انتظامیہ طالب علموں کے مابین مثبت رحجان اور تدریسی عمل کو بہتر بنانے کیلئے اختیارات کا حق رکھتی ہے تاہم وہ انسانی فطرت میں شامل جذبات کو قابو کرنے کا حق نہیں رکھتی۔عدالتی فیصلے کے بعد لڑکی نے کالج میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا ٗ 21 سالہ لڑکے نے مذکورہ کالج سے تدریسی سلسلہ منقطع کرکے کسی دوسرے کالج میں داخلہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ٗاس حوالے سے عدالت نے کالج کو ہدایت کی کہ لڑکے کا مکمل تدریسی ریکارڈ دو ہفتے کے اندر فراہم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…