جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حج سے روکنے والی قطری حکومت خدا کے عذاب سے ڈرے، سلطان بن سحیم

datetime 22  جولائی  2018 |

دوحہ(انٹرنیشنل ڈیسک)قطری حکمراں خاندان کے سرکردہ رہ نما الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنے کے حکومتی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنا قطری حکومت کی گھٹیا اور شرمناک حرکت ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ٹویٹس میں الشیخ سلطان بن سحیم نے کہا۔

سعودی عرب ہر سال دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں اور قطر کے ہزاروں عازمین حج کی میزبانی کرتا اور انہیں ہرطرح کی سہولیات مہیا کرتا ہے مگر ہماری حکومت اپنے ہی شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنے کی گھٹیا حرکتوں کی مرتکب ہے۔ ہمیں سعودی عرب کی حج سہولیات کی مساعی کا خیر مقدم کرنا کرتے ہوئے الریاض کا شکر گذار ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ امر کس قدر حیران کن ہے کہ قطری حکومت اپنے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت کا یہ اقدام گھٹیا حرکت ہے اور اس پر اس کا تاریخی محاسبہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے قطرکے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ وہ خدا کے عذاب سے ڈریں۔ انہیں شہریوں کو حج اور عمرہ کی ادائی سے روکنے پر اللہ کے ہاں بھی سخت پکڑ ہوگی۔ دنیا میں بھی ان کا نام ظالم حکمرانوں میں لکھا جائے گا اور ہمیشہ ان کا شمار تاریخ کے سیاہ باب میں ہوگا۔ تاریخ ایسی حکومتوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہیں جلد اپنے جرائم کا حساب دینا ہوگا۔خیال رہے کہ الشیخ سلطان بن سحیم قطر کے حکمران خاندان کے رہ نما ہیں مگر وہ موجودہ حکومت سے سخت ناراض ہیں اور حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید اور سعودی عرب کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…