منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر سے انتہائی تشویشناک اور افسوسناک خبر ایسی شخصیت کو شہید کر دیا گیا کہ جان کر ہر پاکستان کا خون کھول اٹھے گا وادی کے حالات کشیدہ، ہر شہر ، ہر گائوں سوگ میں ڈوب گیا

datetime 15  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر سے انتہائی افسوسناک خبر نے ہر پاکستانی کو غمناک کر دیا، ہر دلعزیز اور نامور صحافی شجاعت بخاری کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا، وادی میں حالات ایک بار پھر کشیدہ، مقامی صحافیوں اور ہیومن رائٹس فورم نے قتل کا ذمہ داری بھارتی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی میں حالات ایک بار

پھر اس وقت کشیدہ ہو گئے ہیں جب ہر دلعزیز اور نامور صحافی شجاعت بخاری کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شجاعت بخاری کو افطار پر جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا، فائرنگ کا واقعہ لال چوک میں پیش آیا، فائرنگ سے شجاعت بخاری کا سیکرٹری بھی شہید ہو گیا۔ کشمیر ہیومن رائٹس فورم نے شجاعت بخاری کے قتل کا ذمہ دار قابض بھارتی فوج ، انٹیلی جنس اور پولیس کو قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بند کرے۔واضح رہے کہ امن کے سفیر اور متوازن مزاج کے حامل ’’ رائزنگ کشمیر ‘‘ کے چیف ایڈیٹر شجاعت بخاری کی شہادت پر ہر آنکھ اشکبار ہے،شجاعت بخاری کا شمار مقبوضہ وادی کے ان چند گنے چنے صحافیوں میں ہوتا تھا جو مسلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے پرامن انداز میں حل کرنے کے خواہاں تھے۔شجاعت بخاری کے قریبی رفقاء اور کشمیری صحافیوں کے مطابق وہ کشمیریوں کے مخلص اور تحریک آزادی کے حقیقی ہیرو تھے، ان کا پاکستان اور آزادکشمیر بھی آنا جانا تھا اور بیرون ممالک جا کر کشمیر بارے لابنگ بھی کرتے تھے ۔آزادکشمیر کے صحافیوں کی جانب سے شجاعت بخاری کی شہادت کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے آج 15 جون دن گیارہ بجے مرحوم کی نماز جنازہ ادا کرنے اور سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…