ہفتہ‬‮ ، 03 جنوری‬‮ 2026 

اساتذہ ہڑتال نہیں کر سکتے، جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت

datetime 13  جون‬‮  2018 |

برلن (این این آئی)جرمنی کی اعلیٰ ترین عدالت نے چار اساتذہ کے ایسے مطالبات مسترد کر دیے ہیں کہ ان کو ہڑتال کرنے کی اجازت دی جائے۔ آئینی عدالت کے مطابق سرکاری عہدیداروں کو اسٹرائیک پر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چار جرمن اساتذہ نے اعلیٰ ترین عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں ہڑتال کرنے کی اجازت دی جائے لیکن کارلسروہے کے ججوں نے کہا ۔پبلک آفیشلز کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

جرمنی کی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایسے مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے کہ پبلک سیکٹر سے وابستہ اہلکاروں پر عائد ہڑتال کی پابندی کو نرم یا ختم کر دیا جائے۔جرمنی میں چار اساتذہ نے آئینی عدالت سے اس وقت رجوع کیا تھا، جب کام کے وقت کے دوران انہیں ہڑتال کرنے پر انضباطی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جرمن قوانین کے مطابق سرکاری اہلکار اپنے کام کے وقت کے دوران ہڑتال نہیں کر سکتے ہیں۔ تاہم ان اساتذہ نے اس قانون میں نرمی کی خاطر آئینی عدالت سے درخواست کر دی تھی۔اس کیس کو مقامی سطح پر کافی اہمیت حاصل تھی کیونکہ اگر عدالت ان اساتذہ کو ہڑتال کی اجات دے دیتی تو اس کے نتیجے سے ایک نیا بینچ مارک بن سکتا تھا۔ یوں جرمنی میں سول سروس سے وابستہ دیگر سرکاری اہلکار بھی اس عدالتی فیصلے کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے۔ان اساتذہ نے کارلسروہے میں واقع جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی تھی کہ بنیادی جرمن قوانین کے تحت انجمن سازی کی اجازت ہے اور یوں ملازمین کو ہڑتال کا قانونی حق بھی حاصل ہے۔ تاہم عدالت کے فیصلے کے مطابق سرکاری ملازمین پر ہڑتال کی پابندی جرمن آئین کے بنیادی قوانین سے متصادم نہیں ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ہڑتال کرنے کا حق حاصل ہونے سے سول سروس سیکٹر کے ڈھانچے میں چین ری ایکشن کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں پبلک سیکٹر کے بنیادی اصول متاثر ہوں گے۔

 

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…