منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

طیارہ حادثے کے30 سال بعد روسی ہوا باز زندہ نکلا!پاکستان میں موجودگی کا انکشاف،یہ شخص کون ہے اور اب کیا چاہتاہے؟ حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 3  جون‬‮  2018 |

کابل(این این آئی)سابق سوویت یونین کے دور میں افغانستان میں بمباری کے دوران تباہ ہونیوالے ایک جنگی جہاز کے پائلٹ کو 30 سال تک مردہ شمار کیے جانے کے بعداس کے زندہ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق روس میں پرانے فوجیوں کی ایک تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ روسی ہوا باز کو طیارہ تباہ ہونے کے بعد نہیں دیکھا گیا۔

اس لیے اسے مرنے والوں میں شامل کیا گیا تھا۔روسی چھاتہ بردار اتحاد کے چیئرمین فالیری فوسزٹرٹین نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ ناقابل یقین ہے کہ وہ(پائلٹ) زندہ ہے۔ اب اسے مدد کی ضرورت ہے۔فوسٹروٹٰین جو جنگ میں قید بنائے گئے فوجیوں کی تلاش کے لیے بنائی گئی روسی، امریکی کمیٹی کے چیئرمین ہیں نے تیس سال کے بعد منظرعام پرآنے والے اس ہوا باز کی شناخت ظاہر نہیں کی۔تنظیم کے ایک دوسرے عہدیدار فیلاشیسلاو کالینین نے بتایا کہ ہوا باز کا طیارہ 1987ء میں افغانستان میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔۔ اس وقت اس کی عمر غالبا ساٹھ سال تھی۔ اب وہ وطن لوٹنا چاہتا ہے۔انہوں نے اشارہ کیا کہ کئی سال تک افغانستان میں قید رہنے کے بعد لاپتا ہوا باز پاکستان میں موجود ہے۔خیال رہے کہ 1979ء سے 1989ء تک افغانستان میں چڑھائی کے دوران سوویت یونین کے 125 جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے۔ جنگ کے اختتام پر سوویت یونین نے 300 فوجیوں کیلاپتا ہونے کی تصدیق کی تھی جن کے زندہ یا مردہ ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا تھا۔روسی اخبارکے مطابق حال ہی میں منظرعام پرآنے والے روسی پائلٹ کی شناخت سیرگی پانٹلیوک کے نام سے کی گئی ہے جس کا تعلق جنوبی روس کے علاقے روسٹوف سے ہے۔ بگرام ہوائی اڈے سے پرواز کے بعد اس کا طیارہ مار مگرایا گیا تھا۔ بعد ازاں اس اڈے کو امریکا نے جیل میں تبدیل کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…