منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی بھر میں کھانوں سے بھرے 100سے زائد رمضان فریج رکھ دئیے گئے

datetime 19  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رمضان المبارک کے آغاز کیساتھ ہی دنیا بھر میں مخیر حضرات کی جانب سے مستحقین کیلئے کافی اہتمام کیا جاتا ہے ۔اسی سلسلے میں دبئی میں بھی دردمند خاندانوں نے اپنے گھر کے باہر کھانے پینے کے اشیا سے بھرے فریج رکھے ہیں جنہیں رمضان فریج کا نام دیا گیا ہے اور اب یہ تیسرا سال ہے جس میں رمضان فریج کی تعداد 100 سے زائد ہوچکی ہے اور ہر روز ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔رمضان فریج کا مقصد دبئی

میں مزدور اور غریب طبقے کو کھانے پینے تک رسائی دینا ہے تاکہ وہ رمضان میں سحر اور افطار کے وقت کچھ کھاپی کر اپنے فرائض انجام دے سکیں ۔عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ان تمام فریج کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے جس میں ان کی جسامت اور اشیائے خوردونوش کی تفصیل بھی لکھی جارہی ہے۔ فریج گھروں کے باہر واضح مقامات یا پھر عوامی مراکز پر رکھے گئے ہیں تاکہ لوگ وہاں سے اشیائے خوردونوش لے سکیں یا پھر اپنی جانب سے کھانے پینے کی اشیا رکھ سکیں۔معلوم ہوا ہے کہ اس کارِخیر میں دبئی کے رہائشی این ملکاہی نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔6افراد کی ٹیم رمضان فریج کے امور سنبھالتی ہے جن میں تعاون، روابط اور سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے لیے امارات میں ہلالِ احمر اور دیگر اداروں کی جانب سے لائسنس بھی دیا گیا ہے اور اس کا سلسلہ پہلے روزے سے جاری ہے۔فریجوں کے مقامات کو گوگل نقشوں پر بھی واضح کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی ان کے محلِ وقوع جانتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھاسکے۔ اس ضمن میں پورا خیال رکھا گیا کہ ہے کہ کوئی فریج خالی نہ رہے اور اس میں کھانے کو کچھ نہ کچھ ضرور موجود رہے۔ تاہم اس کے ذمے داران پوری سنجیدگی سے یہ عمل انجام دے رہے ہیں۔ ایک فریج میں 150 سے زائد افراد کے لیے

کھانا پینا موجود ہے اور اس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر عطیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ فریجوں میں جوس، لابان دودھ، پھل، بسکٹ سبزیاں اور دیگر اشیا موجود ہیں لیکن پکے ہوئے گرم کھانے نہیں رکھے جاتے۔رضاکاروں کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد اس کارِ خیر میں شریک ہونے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کھانے پینے کی اشیا پہنچارہی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں بھی دیوار مہربان بہت مشہور ہے ۔مختلف شہروں میں جگہ جگہ ان دیوار مہربان پر لوگ کپڑے وغیرہ لٹکا کر جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…