منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایران میں ہر گھنٹے اور سالانہ کتنی گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں ، رپورٹ سامنے آگئی

datetime 13  مئی‬‮  2018 |

تہران(سی پی پی )ایران پر مسلط ولایت فقیہ کے نظام کی طرف سے عوام کی بنیادی شہری آزادیوں کو کھلے عام پامال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایران میں ایک گھنٹے میں اوسطا پچاس افراد اور سالانہ ساڑھے چار لاکھ افراد کو گرفتارکرکے جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران میں سماجی سروسز کمیٹی کے چیئرمین حسن موسوی تشلک نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ

ایران میں ایک گھنٹے میں اوسطا 50 افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے۔سالانہ یہ تعداد چار لاکھ 30 ہزار تک جا پہنچتی ہے۔انہوں نے ملک میں قانون تعزیرات میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ شہریوں کو طویل المدت قید کی سزاں کو جرمانوں میں بدلا جاسکتا ہے۔ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ پولیس کے کریک ڈان میں سالانہ 4 لاکھ 20 ہزار سے 4 لاکھ 30 ہزار شہریوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ تمام گرفتار شہریوں کو طویل المدت قید کی سزائیں سنائی جائیں۔قید کی سزاں کو جرمانوں میں تبدیلی کیا جاسکتا ہے۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ بھی ایران میں شہریوں کی بلا جواز گرفتاریوں پر بار بار تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کاکہنا ہے کہ ایرانی حکومت مختلف عدالتی اور قانونی حربوں کی آڑ میں لاکھوں شہریوں کو جیلوں ڈال کرانہیں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بناتی ہے۔ گذشتہ کچھ برسوں سے ایران میں چالیس لاکھ شہریوں کے خلاف نام نہاد کیسز بنائے گئے اور انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا اور عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…