واشنگٹن(این این آئی)وہائٹ ہاس کے سینئر عہدے داران نے بتایا ہے کہ شام میں جن اہداف پرکروز میزائل داغے گئے ان کی فہرست میں ایرانی اور روسی ٹھکانوں کو شامل نہیں کیا گیا ۔ کارروائی میں شامی حکومت کے زیر انتظام کیمیائی ہتھیار تیار کرنے والی تنصیبات اور تحقیقی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وہائٹ ہاس سے ٹیلیفونک بریفنگ کے دوران امریکی عہدے دار نے بتایا کہ واشنگٹن کے نزدیک شام میں استحکام کے عمل میں روس کا ایک اہم کردار ہے اور حملے کے بعد اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ جنیوا مذاکرات ، آئین کی اصلاح، آزادانہ انتخابات کے انعقاد اور قرارداد 2254 کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی کوششوں کی تائید کی جانب لوٹا جائے۔ایک دوسرے عہدے دار نے بتایا کہ شام میں امریکی وجود کا مقصد داعش کی ہزیمت ہے اور حالیہ حملے سے شام کے شمال میں 2 ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کی موجودگی متاثر نہیں ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ کارروائی میں اہداف محدود تھے جس کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کی ذخیرہ اندوزی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تا کہ شامی حکومت دوبارہ ان کے استعمال کے قابل نہ رہے۔تاہم دوسری جانب جنرل میکنزی نے پینٹاگون سے ایک بریفنگ میں تسلیم کیا کہ شامی حکومت نے ابھی تک کیمیائی ہتھیاروں کی باقیات کو محفوظ رکھا ہوا ہے لیکن اس ذخیرے کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں واقع ہوتیں کیوں کہ یہ مراکز گنجان آباد علاقوں میں ہیں۔