پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ایران نے 1992میں الجزائرکے اندر دہشت گردی کو سپورٹ کیا، سابق وزیراعظم

datetime 11  اپریل‬‮  2018 |

الجیریا(این این آئی)الجزائر کے ایک سابق وزیراعظم احمد غزالی نے نے کہاہے کہ 1992میں ان کے دور حکومت میں الجزائر کے صدر محمد بوضیاف (مرحوم) تھے۔ بوضیاف نے ہی میری تجویز پر ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا جس پر عمل درآمد بوضیاف کے قتل کے بعد ہوا۔عرب ٹی وی سے بات چیت میں انہوں نے کہاکہ تعلقات توڑنے کا فیصلہ ہمارے اس مشاہدے کے بعد سامنے آیا کہ ایرانی نظام ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور دہشت گردی کو مادی اور معنوی طور پر سپورٹ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذہب کے نام پر خطرناک ترین آمریت دراصل ملاؤں کی آمریت ہے۔ یہ لوگ خطے کے تمام ممالک پر کنٹرول کے لیے کوشاں ہیں۔ اس مقصد کے لیے پرتشدد کارروائیوں کے علاوہ عوام اور نظاموں کے عدم استحکام کو ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنے منصوبوں پر خفیہ طور پر نہیں بلکہ اعلانیہ طور پر عمل کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم کے مطابق ایران اسلام کا دعوی کرتا ہے جب کہ اس نے جدید زمانے میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عرب اور اسلامی ممالک کے سامنے اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ وہ اس سرطانی وجود کو علاحدہ کر دیں جو خود کو ولایت فقیہ کے نظام سے متعارف کراتا ہے۔احمد غزالی نے گفتگو کے اختتام پر افسوس کے ساتھ استفسار کیا کہ عراق، شام اور یمن جیسے ممالک جو تہذیبوں کا مرکز تھے کس طرح اس نظام کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض عرب ممالک میں جنگوں اور تباہی کی صورت میں آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے ایرانی نظام کا ہاتھ ہے بالکل اسی طرح جیسے 80ء کی دہائی اختتام اور 90ء کی دہائی کے آغاز پر الجزائر میں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…