جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

گوگل امریکہ کی عسکری مدد نہ کرے: گوگل ملازمین

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

نیویارک (این این آئی)معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ہزاروں ملازمین نے ایک کھلے خط میں کمپنی سے استدعا کی ہے کہ وہ امریکی فوج کے لیے ایک خصوصی پراجیکٹ پر کام نہ کریں۔اس پروجیکٹ کا نام پروجیکٹ میون ہے اور اس کا مقصد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ڈرون حملوں کے نشانے کو بہتر بنانا ہے۔ملازمین کو خدشہ ہے کہ اس سے گوگل کی ساکھ کو ناقابلِ مرمت نقصان پہنچے گا۔

گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے نام اس خط میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ماننا ہے کہ گوگل کو جنگ کے کاروبار میں نہیں ہونا چاہیے۔اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ پروجیکٹ میوں کو منسوخ کیا جائے اور گوگل واضح پالیسی کا اعلان اور اس پر عمل کرے کہ گوگل یا اس کے کوئی ٹھیکیدار جنگی ٹیکنالوجی تیار نہیں کریں گے۔درجنوں سینیئر انجینیئروں سمیت 3100 ملازمین کے دستخط والے اس خط کے بارے میں نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سٹاف پہلے ہی مینجمنٹ سے اس بارے میں خدشات ظاہر کر چکے تھے۔ دنیا بھر میں گوگل کے 88000 ملازمین ہیں۔گوگل کی کلاؤڈ بزنس کی سربراہ ڈائیں گرین نے اس خدشات کے ردِعمل میں ملازمین کو یقین دلایا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی پتھیار لانچ کرنے میں استعمال نہیں ہوگی اور نہ ہی ڈرون چلانے یا اڑانے میں استعمال ہوگی۔مگر اس خط پر دستخط کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کے اعتماد کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور اپنی اخلاقی ذمہ داری کو نظر انداز کر رہا ہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ہم اپنی اخلاقی ذمہ داری کسی تیسری پارٹی پر نہیں ڈال سکتے۔۔۔ گوگل کے ظاہر کردہ عقائد میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمارا ہر صارف ہم پر اعتماد کر رہا ہے، اس کو کبھی بھی خطرے میں نہ ڈالیں، کبھی نہیں!’اس ٹیکنالوجی کو بنانا جو کہ امریکی حکومت کو عسکری نگرانی میں مدد کرے اور جس کے جالیوا نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں، نامنظور ہے۔

گوگل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ امریکی محکمہِ دفاع کو اپنی امیج ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کرنے دے رہا ہے۔گوگل کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پروجیکٹ میون وزارتِ دفاع کا ایک معروف منصوبہ ہے اور گوگل اس کے ایک حصے پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد غیر جارحانہ چیزوں کے لیے استعمال ہے اور یہ کسی بھی گوگل کلاؤڈ کے صارف کو میسر ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…