جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

چین نے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے 87ہزار سے زائد ڈیم ،بھارت نے 3200 ڈیم تعمیر کئے اورپاکستان نے اب تک کتنے ڈیم تعمیر کئے؟انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 5  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی )فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر غضنفر بلور نے کہاہے کہ آئی ایم ایف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا اب تیسرا نمبر ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات نہ کئے گئے تو آنے والے وقتوں میں پاکستان کی معیشت پر اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے زرعی ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پانی پر زیادہ انحصار کر رہی ہے ۔

غضنفر بلور نے کہا کہ واپڈا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت کو ہر سال پانی کے ضائع جانے کی وجہ سے 25ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ پاکستان کے دریا ہر سال 145ملین ایکٹر فٹ پانی حاصل کرتے ہیں جس میں سے صرف 14ملین ایکٹر فٹ پانی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے جبکہ باقی سب پانی ضائع جاتا ہے۔ 1951میں پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 5260کیوبک میٹر جو 2015تک کم ہو کر 940کیوبک میٹر تک آ گئی تھی اور اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے انتظامات نہ کئے گئے تو 2025تک پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی مزید کم ہوکر صرف860کیوبک میٹر تک پہنچ جائے گی جس کے معیشت اور عوام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ پچھلے 70سال میں ملک میں صرف دو بڑے ڈیم تعمیر کئے گئے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پانی کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں ہماری گذشتہ حکومتیں کتنی غافل رہی ہیں انہوں نے کہا کہ چین نے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے 87ہزار سے زائد ڈیم تعمیر کئے ہوئے ہیں جبکہ انڈیا نے تقریبا 3200 ڈیم تعمیر کئے ہوئے ہیں لیکن پاکستان نے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے 15میٹر تک بلند صرف 150ڈیم تعمیر کئے ہیں جو مطلوبہ ضرورت سے بہت ہی کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیر زمین پانی کی سطح بھی اب تیزی سے نیچے جا رہی ہے اور اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے ذخائر جلد تعمیر نہ کئے گئے تو مستقبل میں پاکستان کی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…