جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

افغان ایک بڑی فوج چاہتے تھے جو پاکستان کا سامنا کرسکے، امریکہ اب تک افغان فوج پر70ارب ڈالر خرچ کرچکاہے،خفیہ امریکی رپورٹ منظر عام پر آگئی،چونکادینے والے انکشافات

datetime 5  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(این این آئی) امریکی حکام کا ماننا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان نہیں بلکہ گروپوں کی لڑائی ہے ،ادھرافغانستان کی بحالی پر مامور امریکا کے خصوصی انسپکٹر جنرل سیگار نے کانگریس کو اپنی پیش کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 16سال کی سخت محنت اور 70 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکا افغان فورسز کو مکمل باصلاحیت بنانے میں ناکام رہا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کی بحالی پر مامور امریکا کے خصوصی انسپکٹر

جنرل سیگار نے کانگریس کو اپنی پیش کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ افغانستان کی بری فورسز اب فضائی مدد چاہتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے لیے افغان ایئرفورس کے لیے یہ ضروری ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان کے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے اور ملک میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو دوبارہ بنانے سے روکنے کے لیے افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز ( اے این ڈی ایس ایف) کو مکمل باصلاحیت بنانا بھی امریکی قومی سلامتی کا مقصد تھا۔کانگریس کے سامنے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2002 کے بعد سے اے این ڈی ایس ایف پر امریکی حکومت کے 70 ارب ڈالر کی سیکیورٹی امداد خرچ کرنے، ان کی تربیت، مشاورت اور معاونت کرنے کے باوجود افغان فورسز اپنی ہی قوم کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں ہوسکیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی اور افغان حکام میں افغانستان میں قومی فوج کی نوعیت اور دائرہ کار پر شروع سے ہی اختلاف تھا اور افغان ایک بڑی فوج چاہتے تھے جو پاکستان کا سامنا کرسکے، تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان نہیں بلکہ گروپوں کی لڑائی ہے۔اس حوالے سے امریکی محکمہ دفاع کے ایک اور سینئرعہدیدار میرن استرمیکی نے خبردار کیا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دشمن مضبوط ہے بلکہ افغان حکومت بہت کمزور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…