اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بُرا وقت آگیا،بھارتی پنجاب میں سینکڑوں کی تعداد میں دلت مظاہرین تلواریں اور ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آئے ،درجنوں ہلاک و زخمی،مدھیہ پردیش میں کرفیو نافذ

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہندوں کی نچلی ذات دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے پر تشدد مظاہروں کے باعث 7 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ٗ مختلف شہروں میں اسکول بند اور ٹرین سروس معطل ہو گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے ملک میں رہنے والے نچلی ذات کے لوگوں کے لیے قوانین کو کمزور کرنے کا کہا تھا۔بھارتی عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں دلت برادری سے

تعلق رکھنے والے ہندو سڑکوں پر نکل آئے اور ٹرین سروس معطل اور سڑکیں بلاک کر دیں جب کہ کچھ مقامات پر احتجاج پرتشدد شکل بھی اختیار کر گیا۔پولیس حکام کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہونے والے پر تشدد فسادات میں 6 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص بھارتی ریاست راجستھان میں ہلاک ہوا۔پر تشدد فسادات کے بعد بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں کرفیو نافذ کر کے کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔بھارتی ریاست پنجاب میں ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں اور تعلیمی ادارے، بینکس اور دفاتر کو بھی بند کر دیا گیا ہے جبکہ مقامی حکومت نے انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے۔بھارتی پنجاب میں سینکڑوں کی تعداد میں دلت مظاہرین تلواریں اور ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور زبردستی دکانیں بند کروا دیں۔اس کے علاوہ اتر پردیش، جھار کھنڈ اور بہار کی ریاستوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔وفاقی حکومت کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ماضی میں نچلی ذات اور نچلے قبائل سے متعلق قوانین کا غلط استعمال کیا گیا۔بھارت کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق صرف 2016 میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف 40 ہزار مقدمات درج ہوئے۔

دوسری جانب دلت رہنماں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔آل انڈیا ایسوسی ایشن فار لوور کاسٹس کے جنرل سیکریٹری کے پی چوہدری نے کہا کہ ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ بھارت میں دلتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی تفریق سے بچا کو یقینی بناتا تھا لیکن سپریم کورٹ کے نئے فیصلے نے ان قوانین کو ختم کر دیا ہے، عدالت کا یہ فیصلہ ہمارے لیے حیران کن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…