اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ڈی جے یا جن شادیوں میں موسیقی اور رقص ہوگا ان شادیوں میں وہ نکاح نہیں پڑھائیں گے، معروف عالم دین کا اعلان،نئی بحث شروع ہوگئی

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں دیوبند کے قاضی اورمسلم پرسنل لا بورڈ کے دارالقضا شعبے میں دہلی کے قاضی محمد کامل نے کہا ہے کہ جن شادیوں میں موسیقی اور رقص ہوگا ان شادیوں میں وہ نکاح نہیں پڑھائیں گے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق قاضی شہر مفتی اظہر حسین نے کہا کہ وہ ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کریں گے جن میں ڈی جے ہوں گے کیونکہ اسلام میں ڈی جے جائز نہیں ہیں۔انھوں نے کہاکہ ہم ان شادیوں میں نکاح نہیں پڑھائیں گے جہاں ڈی جے ہوگا یا جہاں موسیقی اور رقص ہوگا۔

یہ اسلام کے منافی ہیں اور ہم لوگ ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر ناچ گانے شادی سے قبل ہوتے ہیں اور قاضی کو اس کا علم نہیں ہے تو کوئی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ‘ہم ان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ لوگوں کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چیزوں کو کتنی سنجیدگی سے اور کس طرح لیتے ہیں۔دوسری جانب آل انڈیا ملی کونسل میں دہلی پردیش کے جنرل سیکریٹری ذکی احمد بیگ نے کہا کہ اصولی طور پر سب اس کی تائید کرتے ہیں لیکن اس کے نفاذ سے قبل عوام میں بیداری لانے کی ضرورت ہے اور انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام میں موسیقی کن وجوہات کی بنا پر ممنوع ہے۔انھوں نے افغان طالبان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بغیر عوامی بیداری کے انھوں نے جس طرح شریعہ کو نافذ کرنے کی کوشش کی اس کی وجہ سے ساری دنیا ان کی مخالف ہو گئی۔انھوں نے مزید کہا کہ سخت گیری جوڑ کے بجائے توڑ کا سبب بنتی ہے۔اسلامی فقہ اکیڈمی کے مفتی احمد نادر القاسمی نے اس بارے میں بتایا کہ اصلاح معاشرہ کی نیت سے کیے جانے والے ایسے اقدام کی میں حمایت کرتا ہوں۔انھوں نے مزید کہا کہ ہر شہر کے قاضی اور علما کو لوگوں کو خرافات اور فساد کا سبب بننے والے کام سے روکنے کا کام کرنا چاہیے۔انھوں نے کہاکہ ہم اصلاح معاشرہ کے ایسے اقدام کی حمایت اور ستائش کرتے ہیں۔ ورنہ شادی تو ہو ہی جاتی ہے اور کوئی نہ کوئی نکاح پڑھا ہی دے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…