پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

روس کے دباؤ نے کام کردکھایا، امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیئے، ٹرمپ نے اہم اسلامی ملک سے فوجیں واپس بلانے کا اعلان کردیا

datetime 1  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو بتایا کہ وہ شام سے امریکی فوج کی جلد واپسی چاہتے ہیں۔داعش کے خلاف مشترکہ کامیابی پر انہوں نے اپنی تقریر کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم شام سے بہت جلد واپس آئیں گے، اب یہ معاملہ دوسروں کو دیکھنے دیں، بہت جلد، بہت جلد ہم واپس آئیں گے اور اپنے ملک کی حفاظت کریں گے جہاں ہم رہتے ہیں اور جہاں ہم رہنا چاہتے ہیں’۔دو سینیئر حکومتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی تقریر کے دوران ان کے تبصرے نے

ان کی اندرونی مشیروں کے ساتھ مشاورت کی جھلک دکھا دی ہے ٹرمپ حیرت میں ہیں کہ امریکی فوج کو دہشت گردوں کے ساتھ کیوں رہنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ شامی فوج نے باغیوں کے زیر اثر رہنے والے علاقے غوطہ سے ان کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔شامی فوج کے مطابق دار الخلافہ کے اطراف میں تقریبا تمام علاقہ خالی کرالیا گیا تاہم دومہ کے علاقے میں مذاکرات جاری ہیں۔حکومت نے علاقے کے سب سے بڑے شہر اور داعش کے مضبوط زیر اثر رہنے والے علاقے دومہ میں باغیوں کو خبردار کردیا کہ وہ ہفتے کی رات تک علاقہ خالی کرنے پر رضامندی کا اظہار کردیں گے۔حکومت کی حمایت کردہ کچھ نئی ویب سائٹس کے مطابق فوج دومہ کے علاقے میں اپنے دستے اتار رہی ہے تاہم وارننگ میں ایک دن کا اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔فوج کا یہ بیانیہ ایک اور مخالف گروہ کے جنگجوں اور ان کے اہل خانہ کے مشرقی غوطہ کے جنوب اور مغربی حصوں سے جانے کے بعد سامنے آیا۔ان جنگجوں کے جانے کے بعد شامی صدر بشار السد کی فوج گرد و نواح کے علاقوں سے باغیوں کے گروہ کے خاتمے میں ایک قدم آگئے بڑھ چکی ہے۔سرکاری فوج نے مشرقی غوطہ کا قبضہ ملتے ہی دمشق سے ملانے والی سڑکوں اور ہائی ویز کو کھول دیا جو 2012 میں باغیوں کے قبضے کے بعد سے بند تھیں۔فوج کے بیانیے میں دہشت گردی کے خاتمے اور شام کے

تمام حصوں میں استحکام لانے کا عندیہ دیا گیا۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کے شامی مبصرین کے مطابق 18 فروری سے شروع ہونے والی شام کی حکومت کی بمباری میں 1600 سے زائد شامی شہری ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی بھی ہوئے۔اس کے علاوہ تقریبا 5 سال میں 4 لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر ہیں اور حکومت کی جانب سے خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کی بھی ایک محدود حد تک اجازت دی جاتی ہے۔شامی حکومت کی جانب سے اس علاقے کا کنٹرول باغیوں سے واپس لینے کے لیے

شدید بمباری اور محاصرے کے علاوہ دیگر حکمت عملی کا بھی استعمال کیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ دمشق اور ماسکو نے غوطہ میں زندگی یا موت کی حکمت عملی نافذ کی ہوئی ہے اور انہوں نے ہر ایک کے علیحدہ انخلا کے معاہدے سے قبل علاقے کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔خیال رہے کہ روس کی جانب سے خطے میں ثالثی کے پہلے معاہدے میں اسلامی گروپ احرار الشام نے ہاراستہ کا علاقہ چھوڑنے پر رضا مندی کا اظہار کیا تھا اور 1400 جنگجوں سمیت 4500 سے زائد لوگوں نے اس علاقے سے انخلا کیا۔علاوہ ازیں غوطہ کے تیسرے اور آخری حصے کے معاملے پر جیش الاسلام گروپ کی جانب سے مذاکرات جاری ہیں اور جس میں سب سے بڑا علاقہ دومہ بھی شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…