جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ،امریکا کو تاریخ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کی امید پھر پیدا ہوگئی ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 2  مارچ‬‮  2018 |

کابل (آن لائن)افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت دیکھنے کے بعد امریکا کو تاریخ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کی امید پھر سے جاگ اٹھی۔، 17 سال تک گوریلا تنازع اور غلط سفارتی اقدامات کے بعد امریکا کو کچھ حاصل نہیں ہوسکا تھا۔تاہم انہیں عوامی و نجی سطح پر رواں ہفتے کابل میں ہونے والی عالمی کانفرنس کا سن کر خوشی ہوئی جسے وہ افغان صدر اشرف غنی کی حکومت اور طالبان کے درمان مذاکرات کا

پہلا قدم سمجھتے ہیں۔خیال رہے کہ اشرف غنی نے طالبان کو مذاکرات میں شرکت کرنے اور افغانستان کے مستقبل کے لیے انہیں سیاسی جماعت تصور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔واشنگٹن طویل عرصے تک غیر نتیجہ خیز تنازعے کے حل کے لیے طالبان کے ساتھ یک طرفہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں تاہم انغان مذاکرات کی وہ حمایت کرے گا۔امریکی پالیسی سازوں کی جانب سے امریکا کی حمایت میں چلنے والی افغان فوج کی جانب سے جنگ نہ جیتنے کے بعد طالبان کو بھی یہ سوچ لینا چاہیے کہ وہ کابل پر دوبارہ قبضہ کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔تاہم اب بھی کافی کچھ غلط ہوسکتا ہے اور چند امریکی حکام افغانستان میں اپنی باقی رہ جانے والی فوج کو کابل کی فوج کی پشت پناہی کرنے اور شدت پسندوں کے خلاف امن کی بحالی تک کارروائی کرنے پر زور دے رہی ہے۔دوسری جانب کابل اور واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے کے لیے نئی پالیسی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نورت نے واضح کیا تھا کہ واشنگٹن کو خوشی ہے کہ اشرف غنی غیر نے کانفرنس کا استعمال کرتے ہوئے غیر حاضر طالبان کو بتایا کہ امن کے لیے کوئی شرائط نہیں ہیں۔ستمبر 2001 حملوں کے بعد امریکا کی سربراہی میں افغانستان میں ہونے والی مداخلت کی وجہ سے طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تھا جس کے بعد سے دہشت گرد تنظیم پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔تاہم اشرف غنی اور امریکی حکام اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ طالبان امن مذاکرات میں ملک کے نئے جمہوری آئینکو مانے بغیر بھی شرکت کرسکتے ہیں۔امید کی جارہی ہے کہ طالبان بین الاقوامی شدت پسند تنظیم القائدہ سے الگ ہوکر اپنا افغانستان میں کردار ادا کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…