اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

افغان حکومت امریکہ کی مسلط کردہ ہے، طالبان

datetime 2  مارچ‬‮  2018 |

کابل(آئی این پی)افغانستان میں سرگرم طالبان نے صدر اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل میں ہونے والی کانفرنس کے پیچھے یہ خواہش کار فرما تھی کہ طالبان کسی بھی طرح بس ہتھیار ڈال دیں۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سرگرم طالبان نے صدر اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل میں ہونے والی کانفرنس کے پیچھے یہ خواہش کار فرما تھی کہ طالبان کسی بھی طرح بس ہتھیار ڈال دیں۔

افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ افغانستان پر قابض ہے اور اس نے افغان عوام پر اپنے جیسی ایک نام نہاد حکومت مسلط کر دی ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ملک میں قیامِ امن کے لیے ‘کابل پراسس’ کے عنوان سے جاری کوششوں کے سلسلے میں بدھ کو کابل میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں طالبان کو مذاکرات کی غیر مشروط پیشکش کی تھی۔افغان طالبان نے تاحال صدر غنی کی اس پیشکش کا کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔البتہ طالبان کے ترجمان نے امریکی جریدے ‘نیویارکر’ میں گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے ایک کھلے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت افغانستان کے عوام پر امریکہ نے مسلط کی ہے جس سے بات چیت کا مطلب امریکی قبضے کو تسلیم کرنا ہے۔مذکورہ کھلا خط افغان سیاست کے ماہر اور معروف مبصر بارنیٹ روبِن نے لکھا تھا جس میں انہوں نے طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوں۔مذکورہ خط کے جواب میں جمعرات کو طالبان کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ افغانستان پر قابض ہے اور اس نے افغان عوام پر اپنے جیسی ایک نام نہاد حکومت مسلط کردی ہے۔بیان میں بارنیٹ روبن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ کی یہ رائے کہ طالبان اس حکومت سے بات کریں اور اسے قانونی تسلیم کر لیں۔

دراصل وہی فارمولا ہے جو امریکہ نے یہ جنگ جیتنے کے لیے اختیار کیا۔بیان میں کابل میں بدھ کو ہونے والی ‘کابل پراسس’ کانفرنس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد محض یہ خواہش تھی کہ طالبان کسی طرح ہتھیار پھینک دیں۔افغان طالبان نے حالیہ ہفتوں میں دو بار کھلم کھلا امریکہ کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن وہ کابل حکومت کے ساتھ ماضی میں بھی مذاکرات سے انکار کرتے آئے ہیں۔

عالمی برادری صدر اشرف غنی اور ان کی انتظامیہ کو افغانستان کی واحد قانونی اور نمائندہ حکومت قرار دیتی ہے لیکن طالبان 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد بننے والی افغان حکومت کو جعلی اور امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ حکومت قرار دیتے آئے ہیں جو ان کے بقول افغان عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں دہشت گرد حملوں سے متعلق بین الاقوامی تحفظات پر “نیک نیتی سے بات چیت” کے لیے تیار ہیں اور امریکہ یا کسی دوسری طاقت سے تصادم نہیں چاہتے۔

لیکن بیان میں طالبان ترجمان نے سوال کیا ہے کہ کیا واقعی دہشت گردی ہی امریکہ کا مسئلہ ہے یا وہ افغانستان سے اس کی معدنی دولت ہتھیانا، ایک مصنوعی حکومت مسلط کر کے اسلامی نظام کا قیام روکنا اور افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے خطے میں اپنے سامراجی عزائم کا حصول چاہتا ہے؟بیان کے مطابق اگر حالات یہی ہیں تو طالبان کو امریکہ کی کوئی پرواہ نہیں اور ایسے میں وہ امریکہ سے مذاکرات کرنا چاہیں گے اور نہ ہی اپنی مزاحمت ترک کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…