اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

برطانوی ملکہ ایلزبتھ کو قتل کرنے کی سازش بے نقاب

datetime 2  مارچ‬‮  2018 |

ڈونیڈن(آئی این پی) برطانوی ملکہ ایلزبتھ کو قتل کرنے کی سازش بے نقاب ہوگئی ،تازہ افشا کردہ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ 1981 میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ملک برطانیہ الزبتھ دوم کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تازہ افشا کردہ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ 1981 میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ملک برطانیہ الزبتھ دوم کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

نیوزی لینڈ کی سکیورٹی انٹیلی جنس سروس(ایس آئی ایس) نے تصدیق کی ہے کہ 17 سالہ کرسٹوفر لیوس نے نیوزی لینڈ کے شہر ڈونیڈن میں ملکہ پر گولی چلائی تھی۔مقامی میڈیا کے مطابق اس وقت پولیس نے اس بات کو چھپانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا جو آواز آئی تھی وہ گولی چلنے کی نہیں بلکہ ایک سائن بورڈ کے گرنے کی آواز تھی۔ایک سابق پولیس اہلکار اور مقامی میڈیا نے کہا ہے کہ پردہ پوشی کی اس کوشش کے پیچھے یہ ڈر تھا کہ آئندہ برطانیہ سے شاہی مہمان یہاں آنا چھوڑ دیں گے۔ڈونیڈن میں 14 اکتوبر 1981 کو شاہی پریڈ ہوئی تھی۔لیوس کو تھوڑی ہی دیر بعد گرفتار کر لیا گیا اور پولیس نے پریڈ کے مقام کے قریب ایک عمارت سے ایک رائفل اور چلی ہوئی گولی کا کھوکھا برآمد کیا تھا۔دستاویزات میں لکھا ہے: ‘لیوس واقعی ملکہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن انھیں نشانہ باندھنے کے لیے مناسب جگہ ملی اور نہ ہی ان کی رائفل اتنے فاصلے تک مار کرنے کے قابل تھی۔لیوس پر ملکہ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد نہیں کیا گیا، اس کی بجائے ان پر غیرقانونی طور پر گولی چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ایس آئی ایس کی ایک یادداشت میں لکھا ہے کہ اس کے اہلکاروں کو ڈر تھا کہ کہیں صحافیوں کو اس بات بھنک نہ مل جائے کہ لیوس نے ملکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔یادداشت کے مطابق: ‘پولیس کی تفتیش خفیہ طریقے سے کی گئی۔ زیادہ تر صحافیوں کا خیال تھا کہ شاید دھماکہ آتش بازی کے گولے کا تھا۔

تاہم اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں کوئی لیوس پر چلائے جانے والے مقدمے اور ملکہ کے دورے کی تاریخ کے درمیان تعلق نہ جوڑ دے۔ڈونیڈن کے سابق پولیس افسر ٹام لیوس نے نیوزی لینڈ کی حکومت پر اس واقعے پر پردہ ڈالنے کا الزام لگایا تھا۔نیوزی لینڈ کے حکام کو ڈر تھا کہ اگر یہ واقعہ عام ہو گیا تو آئندہ برطانوی شاہی شخصیات نیوزی لینڈ کے دورے سے گریز کریں گی۔ریڈیو نیوزی لینڈ کے کولن پیکاک نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں کچھ صحافی سامنے آئے ہیں جنھوں نے بتایا ہے کہ انھیں کہا گیا تھا کہ وہ ‘گولی چلنے کی آواز کے بارے میں کچھ رپورٹ نہ کریں۔لیوس نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ وہ ایک مسلح تنظیم کے سربراہ ہیں لیکن ایس آئی ایس کو اس کے کوئی شواہد نہیں ملے اور کہا کہ یہ لیوس کا ‘ہذیان’ تھا۔قید کی سزا کاٹنے کے بعد لیوس نے کئی ڈکیتیاں کی اور بالآخر 1997 میں جیل میں خودکشی کر لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…