بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

برطانوی ملکہ ایلزبتھ کو قتل کرنے کی سازش بے نقاب

datetime 2  مارچ‬‮  2018 |

ڈونیڈن(آئی این پی) برطانوی ملکہ ایلزبتھ کو قتل کرنے کی سازش بے نقاب ہوگئی ،تازہ افشا کردہ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ 1981 میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ملک برطانیہ الزبتھ دوم کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تازہ افشا کردہ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ 1981 میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ملک برطانیہ الزبتھ دوم کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

نیوزی لینڈ کی سکیورٹی انٹیلی جنس سروس(ایس آئی ایس) نے تصدیق کی ہے کہ 17 سالہ کرسٹوفر لیوس نے نیوزی لینڈ کے شہر ڈونیڈن میں ملکہ پر گولی چلائی تھی۔مقامی میڈیا کے مطابق اس وقت پولیس نے اس بات کو چھپانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا جو آواز آئی تھی وہ گولی چلنے کی نہیں بلکہ ایک سائن بورڈ کے گرنے کی آواز تھی۔ایک سابق پولیس اہلکار اور مقامی میڈیا نے کہا ہے کہ پردہ پوشی کی اس کوشش کے پیچھے یہ ڈر تھا کہ آئندہ برطانیہ سے شاہی مہمان یہاں آنا چھوڑ دیں گے۔ڈونیڈن میں 14 اکتوبر 1981 کو شاہی پریڈ ہوئی تھی۔لیوس کو تھوڑی ہی دیر بعد گرفتار کر لیا گیا اور پولیس نے پریڈ کے مقام کے قریب ایک عمارت سے ایک رائفل اور چلی ہوئی گولی کا کھوکھا برآمد کیا تھا۔دستاویزات میں لکھا ہے: ‘لیوس واقعی ملکہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن انھیں نشانہ باندھنے کے لیے مناسب جگہ ملی اور نہ ہی ان کی رائفل اتنے فاصلے تک مار کرنے کے قابل تھی۔لیوس پر ملکہ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد نہیں کیا گیا، اس کی بجائے ان پر غیرقانونی طور پر گولی چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ایس آئی ایس کی ایک یادداشت میں لکھا ہے کہ اس کے اہلکاروں کو ڈر تھا کہ کہیں صحافیوں کو اس بات بھنک نہ مل جائے کہ لیوس نے ملکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔یادداشت کے مطابق: ‘پولیس کی تفتیش خفیہ طریقے سے کی گئی۔ زیادہ تر صحافیوں کا خیال تھا کہ شاید دھماکہ آتش بازی کے گولے کا تھا۔

تاہم اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں کوئی لیوس پر چلائے جانے والے مقدمے اور ملکہ کے دورے کی تاریخ کے درمیان تعلق نہ جوڑ دے۔ڈونیڈن کے سابق پولیس افسر ٹام لیوس نے نیوزی لینڈ کی حکومت پر اس واقعے پر پردہ ڈالنے کا الزام لگایا تھا۔نیوزی لینڈ کے حکام کو ڈر تھا کہ اگر یہ واقعہ عام ہو گیا تو آئندہ برطانوی شاہی شخصیات نیوزی لینڈ کے دورے سے گریز کریں گی۔ریڈیو نیوزی لینڈ کے کولن پیکاک نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں کچھ صحافی سامنے آئے ہیں جنھوں نے بتایا ہے کہ انھیں کہا گیا تھا کہ وہ ‘گولی چلنے کی آواز کے بارے میں کچھ رپورٹ نہ کریں۔لیوس نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ وہ ایک مسلح تنظیم کے سربراہ ہیں لیکن ایس آئی ایس کو اس کے کوئی شواہد نہیں ملے اور کہا کہ یہ لیوس کا ‘ہذیان’ تھا۔قید کی سزا کاٹنے کے بعد لیوس نے کئی ڈکیتیاں کی اور بالآخر 1997 میں جیل میں خودکشی کر لی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…