ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’میری یہ ویڈیو کیوں بنائی‘ وہ پاکستانی میاں بیوی جو برطانوی ٹی وی چینل کے پیچھےایسے پڑے کہ دنوں میں مالدار ہو گئے؟ جان کرآپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 25  فروری‬‮  2018 |

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) قسمت کبھی یوں بھی مہربان ہوتی ہے کہ انسان دیکھتا ہی رہ جاتا ہے ، یہ مثال برطانیہ میں دو پاکستانی نژاد میاں بیوی پر اس وقت پوری ہوئی جب انہوں نے برطانیہ کے ایک چینل ، چینل 5پر ہرجانے کا دعویٰ کیا۔ عدالت نے چینل 5کی انتظامیہ کو اس پاکستانی نژاد جوڑے کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیدیا ہے ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 51سالہ شاکر علی اور ان کی 49سالہ اہلیہ

شاہدہ اسلم دونوں بے روزگار تھے جس کی وجہ سے وہ کئی ماہ سے اپنے گھر کا کرایہ ادا نہ کر سکے چنانچہ انہیں گھر سے بے دخل کر دیا گیا۔جب انہیں مشرقی لندن کے علاقے بارکنگ میں واقع گھر سے نکالا جا رہا تھا تو چینل 5نے ان کی ویڈیو بنا کر اپنے پروگرام ”کین ناٹ پے؟ وی وِل ٹیک اِٹ اوے“ (Can’t Pay? We’ll Take It Away)میں چلا دی۔ اس ویڈیو میں شاکر علی نے محض پاجامہ پہن رکھا ہوتا ہے اور بیساکھیوں پر چلتا ہوا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گھر سے باہر نکل رہا ہوتا ہے۔ شاکر اور شاہدہ نے اس ویڈیو کو ہتک آمیز قرار دیا اور چینل کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ اب عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے چینل کو حکم دیا ہے کہ وہ اس جوڑے کو 20ہزار پاؤنڈ (تقریباً 31لاکھ روپے) ہرجانہ ادا کرے۔چینل انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اسے خوش آمدید کہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اس عدالتی فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں تاہم ہمارا مقصد بدنیتی پر مبنی نہیں تھا ہم نے دونوں میاں بیوی کی گھر سے نکالے جانے کی ویڈیو عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے چلائی تھی۔واضح رہے کہ برطانیہ ، کینیڈا اور امریکہ میں ٹی وی، اخبارات یا ریڈیو پر کسی بھی شہری کی کوئی ایسی چیز نشر  یا شائع کی جائے جو کہ بدنیتی یا ہتک ثابت ہو جائے تو اس ٹی وی چینل، اخبار یا ریڈیو کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے اور یہ جرمانہ حکومتی خزانے میں نہیں بلکہ متاثرہ فریق کو ادا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…