ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور سے بائیو ٹیکنالوجی میں گریجو ایشن کرنیوالے یمنی نوجوان کے فیس بْک پر ایک کروڑ 60 لاکھ پیروکار،حیرت انگیزانکشافات

datetime 24  فروری‬‮  2018 |

صنعاء(این این آئی) یمن سے تعلق رکھنے والے ہاشم الغیلی ہر ایک فرد کی عمر اور پس منظر سے قطع نظر سائنس تک رسائی چاہتے ہیں۔انھوں نے اپنے اسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے 2009ء میں فیس بْک پر اپنا صفحہ شروع کیا تھا۔الغیلی اس وقت برلن میں مقیم ہیں۔

انھوں نے برطانوی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کے والد انھیں ایک کسان بنانا چاہتے تھے لیکن ان کا لگاؤ سائنس کی جانب تھا اور انھوں نے اوائل عمری ہی میں بچوں کے سائنسی جریدے پڑھنا شروع کردیے تھے۔انھوں نے پشاور سے بائیو ٹیکنالوجی میں گریجو ایشن کی ڈگری حاصل کی ہے اور جرمنی کی جیکبس یونیورسٹی سے اسی مضمون میں ماسٹرز کیا اور آج وہ مالیکیولر بیالوجسٹ اور سائنسی مبلغ ہیں۔ہاشم الغیلی نے خود کو اس مضمون تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کی دلچسپی کے متنوع میدان ہیں۔ انھوں نے ویڈیو پروڈکشن میں بھی مہارت حاصل کی اور بیالوجی سے ٹیکنالوجی اور فطرت تک مختلف سائنسی موضوعات پر مختصر دورانیے کی جامع معلومات پر مبنی ویڈیوز بنانا شروع کردیں۔آج فیس بْک پر ان کے صفحے کے پیروکاروں کی تعداد تین سال سے بھی کم عرصے میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے متجاوز ہو چکی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ان کے پیروکاروں کی تعداد میں 2015ء کے بعد یک لخت نمایاں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا کیونکہ اسی سال فیس بْک نے ویڈیوز متعارف کرائی تھیں اور انھوں نے مزید ویڈیو ز بنائیں اور انھیں اپنے صفحے پر پوسٹ کرتے رہے ۔اس کے بعد ان ویڈیوز کو دیکھنے والے ناظرین اور پیروکار وں کی تعداد روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ یمن سے تعلق رکھنے والے ہاشم الغیلی ہر ایک فرد کی عمر اور پس منظر سے قطع نظر سائنس تک رسائی چاہتے ہیں۔انھوں نے اپنے اسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے 2009ء میں فیس بْک پر اپنا صفحہ شروع کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…