گورنر کاافغان صدر اشرف غنی کا حکم ماننے سے صاف انکار

19  فروری‬‮  2018

مزار شریف(آن لائن) افغانستان میں ایک اور افغان صوبائی گورنر نے صدر اشرف غنی کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا، جس کے بعد سیاسی بحران پر مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کی کمزوری سامنے آگئی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطا بق افغانستان کے شمال صوبے سمنگان کے گورنر عبدالکریم خدام کی جانب سے اپنے پڑوسی صوبے بلخ کے گورنر عطا محمد نور کی پیروی کرتے ہوئے عہدے سے ہٹنے کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا گیا۔

اس حوالے سے گورنر عبدالکریم خدام کا کہان تھا کہ ’ مجھے ہٹانے کا فیصلہ سیاسی ہے اور میں اسے قبول نہیں کرتا، میں نے سمنگان کے لیے بہتر کام کیا ہے اور میرے لوگ مجھے جانے نہیں دیں گے‘۔دوسری جانب اشرف غنی کی جانب سے عطا محمد نور سے جاری تنازعات ختم کرنے کے لیے کافی ہفتوں سے جدوجہد جاری ہے، تاہم ان کی جانب سے بلخ کی گورنر شپ واپس دینے سے انکار کردیا تھا۔خیال رہے کہ یہ صوبہ وسطی ایشیا میں اہم تجارتی راستوں تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں افغانستان کا دوسرا بڑا شہر مزار شریف بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ طالبان جنگجوؤں کی جانب سے افغان دارالحکومت کابل میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے اور آئے روز شہر کو خود کش حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ اس تنازعے نے رواں برس ہونے والے انتخابات سے پہلے ہی اشرف غنی کی حکومت کو کمزور کردیا ہے۔گورنر عبدالکریم خدام ایک ترکمان ہیں لیکن وہ اور عطا محمد نور دونوں جمعیت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی جماعت کو فارسی بولنے والی تاجکس کی حمایت حاصل ہے جن کی اشرف غنی اور پختونوں کے ساتھ دشمنی میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اگرچہ اشرف غنی کے ساتھ جمعیت اسلامی سے تعلق رکھنے والے عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو کی طاقت کے ساتھ شریک ہیں لیکن جمعیت اسلامی کی جانب سے اشرف غنی پر طاقت کی اجارہ داری اور پختونوں کی حمایت کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

اسی طرح ان دونوں کے درمیان اس تقسیم کو دور کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک نیا کام کیا گیا اور ایک نئے الیکٹرانک کارڈ متعارف کرائے گئے جس میں حزب مخالف کے لوگوں کے لیے بھی قومی شناخت ’افغان ‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا گیا جو گزشتہ ادوار میں پختون کے لیے استعمال ہوتی تھی۔تاہم بہت سے تاجکس کی جانب سے اس اصطلاح کو پختون کی جانب سے غلبے کے طور پر لیا گیا اور انہوں نے ان کارڈ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔اسی حوالے سے افغان صدر اشرف غنی اور ان کی بیوی نے نام نہاد ’ ای تذکراس‘ کی حمایت کرنے کے لیے گزشتہ ہفتے اپنے پہلے نئے کارڈ حاصل کیے، تاہم اس اقدام سے صرف حکومتی ڈویڑن پر غور کیا گیا کیونکہ جمعیت کے رہنماؤں کی جانب سے اس اقدام کو نظر انداز کردیا گیا ہے اور اس پر مزید پیش رفت کے لیے بات چیت کی ضرورت ہے۔

موضوعات:



کالم



کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟


فواد حسن فواد پاکستان کے نامور بیوروکریٹ ہیں‘…

گوہر اعجاز سے سیکھیں

پنجاب حکومت نے وائسرائے کے حکم پر دوسری جنگ عظیم…

میزبان اور مہمان

یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…

رِٹ آف دی سٹیٹ

ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…

بھکارستان

پیٹرک لوٹ آسٹریلین صحافی اور سیاح ہے‘ یہ چند…

سرمایہ منتوں سے نہیں آتا

آج سے دس سال قبل میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ…

اللہ کے حوالے

سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…