اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

گوادر کا توڑ، ایران نے بھارت کے ساتھ بڑے معاہدے پر دستخط کردیئے،چابہار بندرگاہ بھارت کے حوالے کرنے سمیت کیا کچھ شامل ہے؟چونکادینے والے انکشافات

datetime 17  فروری‬‮  2018 |

چابہار (آن لائن) ایران 18 ماہ کے لیے بندرگاہ انڈیا کو لیز پر دے گاایران نے چابہار بندرگاہ کے ایک حصے کا آپریشنل کنٹرول انڈیا کے سپرد کرنے کے لیے ایک معاہدہ پر دستخط کیے ہیں۔ایران کے صدر حسن روحانی نے ہفتے کو دلی میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے مذاکرات کے بعد کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں اور یہ کہ وہ علاقے سے دہشتگردی کا مسئلہ ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن دہشتگردی کو کسی مذہب سے منصوب نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایران اور انڈیا نے نو معاہدوں کو حتمی شکل دی ہے جن میں سب سے اہم معاہدہ چابہار بندرگاہ کے بارے میں ہے جو انڈیا کی مدد سے تعمیر کیا جارہا ہے اور یہ پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے صرف 90 کلومیٹر دور ہے۔اس معاہدے کے تحت انڈیا کو 18 مہینوں کے لیے بندرگاہ کے پہلے فیز کا آپریشنل کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔چابہار بندرگاہ میں انڈیا کی خاص دلچسپی ہے کیونکہ اس راستے سے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست افغانستان پہنچ سکتا ہے۔ انڈیا افغانستان اور ایران نے گذشتہ برس اس سلسلے میں ایک سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور انڈیا نے افغانستان کو گندم سپلائی کرنے کے لیے اس راستے کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔انڈیا سے افغانستان جانے کا آسان اور چھوٹا راستہ تو پاکستان سے گزرتا ہے لیکن فی الحال دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ اس راستے سے رسائی ممکن نہیں ہے۔صدر روحانی کے دورے سے چند ہفتے قبل ہی اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو انڈیا کے دورے پر آئے تھے۔ انڈیا اور اسرائیل بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور انڈیا کے لیے دونوں ملکوں سے روابط میں توازن رکھنا ایک چیلنج ہے۔صدر روحانی نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مغربی دنیا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ اس معاہدہ کو مسنوخ کرنا چاہتے ہیں اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں

اور ایران پر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو انڈیا کے لیے بھی نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔حسن روحانی انڈیا کے تین روزہ دورے پر آئے ہوئے تھے جس کا آغاز انھوں نے حیدرآباد سے کیا تھا۔ وہاں ایک خطاب میں انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو متحد ہو جانا چاہیے اور اگر ان میں اختلافات نہ ہوتے تو امریکہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ نہ کرتا۔مذاکرات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا

کہ انڈیا چابہار کو ریل کے ذریعے زاہدان سے جوڑنے میں ایران کی مدد کرے گا۔ایران انڈیا کو تیل سپلائی کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تیل اور گیس فیلڈز کے بارے میں کوئی پیش رفت ہوئی یا نہیں۔انڈیا جنوبی ایران کے اْن آئل فیلڈز سے تیل اور گیس نکالنے کے لیے کانٹریکٹ حاصل کرنا چاہتا ہے

جن کی ممکنہ مالیت اربوں ڈالر ہوگی لیکن برسوں سے جاری مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔خیال رہے کہ انڈیا ایران اور افغانستان نے مئی 2016 میں یہ بین الاقوامی راہ داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد سے ہی چابہار بندرگاہ پر کام تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔انڈیا نے گذشتہ سال چابہار کے راستے امداد کی شکل میں گندم کی ایک قسط افغانستان بھیجی تھی۔ اس نے افغانستان کو 11 لاکھ ٹن گندم امداد کی شکل میں دینے کا وعدہ کیا ہے اور یہ بالکل فری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…