جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی خواتین ترقی کے اہداف سے محروم ہیں، اقوامِ متحدہ

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

نیویارک(آئی این پی)اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان کا شمار ان چار ملکوں میں ہوتا ہے جن کا اس رپورٹ میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے جہاں 18 سے 49 سال کی 49 لاکھ خواتین کو پائیدار ترقی کے چار شعبوں سے بیک وقت محروم رکھا جاتا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خواتین کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی تعصب ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔پاکستان کا شمار ان چار ملکوں میں ہوتا ہے جن کا اس رپورٹ میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے جہاں 18 سے 49 سال کی 49 لاکھ خواتین کو پائیدار ترقی کے چار شعبوں سے بیک وقت محروم رکھا جاتا ہے۔

ان شعبوں میں 18 برس کی عمر سے پہلے شادی، تعلیم تک رسائی میں رکاوٹ، صحت کے بارے میں فیصلے کرنے کی صلاحیت اور روزگار سے متعلق فیصلے شامل ہیں۔دو سال قبل عالمی رہنمائوں نے ایجنڈا 2030 کی منظوری دی تھی جس کے بعد اس رپورٹ میں ایجنڈے کے 17 اہداف کی تکمیل کو صنفی پیمانے سے پرکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ اس میں ایسی قابلِ عمل سفارشات بھی دی گئی ہیں کہ اس ایجنڈے پر کیسے عمل پیرا ہوا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے بھی پاکستانی مرد و خواتین میں ان کی آمدن اور مقام کی وجہ سے واضح خلیج موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے پسماندہ نسلی گروہ سندھی، سرائیکی اور پشتون خواتین ہیں، جبکہ دوسرے اشاریوں سے پتہ چلتا ہے کہ غریب خواتین ہر جگہ یکساں طور پر پسماندہ ہیں۔رپورٹمیں کہا گیا ہے کہ ملک میں 74 فیصد خواتین ایسی ہیں جنھوں نے چھ برس سے کم تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ پشتون خواتین اس معاملے میں سب سے پسماندہ ہیں۔ سندھ کے غریب ترین خاندانوں میں سے 40 فیصد خوراک کی کمی کا شکار ہیں، جب کہ قومی سطح پر یہ شرح 13.2 فیصد ہے۔ غربت کی وجہ سے عورتیں کام کرنے پر مجبور تو ہو جاتی ہیں لیکن انھیں سخت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں صنفی تعصب، کم مواقع اور کم اجرت شامل ہیں۔ ان وجوہات کی وجہ سے کم خواتین کام کر پاتی ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…