پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر میں گزشتہ 12سالوں سے جمہوریت مسلسل تنزلی کا شکار ،پاکستان میں حیرت انگیز صورتحال،امریکی تھِنک ٹینک فریڈم ہاؤس کی رپورٹ

datetime 24  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ایک امریکی تھِنک ٹینک فریڈم ہاؤس نے کہاہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت مخالف رجحانات بڑے تشویشناک انداز میں بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ سے مطلق العنان حکمرانی اور عدم استحکام معمول بنتے جا رہے ہیں۔ دنیا کے وہ ممالک جہاں لوگوں کو گذشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی اور شخصی آزادی کی ضمانت حاصل تھی، اب ان ممالک میں بھی عوام کو دوسری جنگ کے عظیم کے بعد کے سب سے بڑے جمہوری بحران کا سامنا ہے

اور جوں جوں امریکہ اپنے روائتی قائدانہ کردار سے کنارہ کشی کر رہا ہے، دنیا ایک تاریک تر دور کی جانب بڑھ رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کے فروغ‘ کے لیے کام کرنے والے ایک امریکی تھِنک ٹینک فریڈم ہاؤس کے عالمی جمہوریت کے سالانہ جائزے میں بتایاگیا کہ دنیا میں جمہوریت کو ایک بحران کا سامنا ہے۔ جائزے کے مطابق 2017 وہ مسلسل 12واں سال تھا جب دنیا بھر میں جمہوریت تنزلی کا شکار رہی۔ اس عرصے میں ان ممالک کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی جہاں سیاسی حقوق اور شخصی آزادیوں پر پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ کچھ ممالک میں حالات بہتر ہوئے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔رپورٹ کے مطابق آج سے ربع صدی پہلے جب سرد جنگ ختم ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ اب آمریت اور مطلق العنان حکومتیں ماضی کا قصہ بن جائیں گی اور بیسویں صدی کی نظریات کی عظیم جنگ آخر کار جمہوریت نے جیت لی ہے، لیکن آج دنیا بھر میں جمہوریت پہلے کے مقابلے میں کمزور تر ہو چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ ممالک جہاں جمہوریت کو ماضی میں خطرے کا سامنا تھا، وہاں صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان ہے جس کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے لیکن پاکستان اب بھی ایسے ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جو فریڈم ہاؤس کے مطابق جزوی طور پر آزاد ہیں۔فریڈم ہاؤس کے بقول دنیا بھر میں جمہوریت مخالف رجحانات کے

پھیلاؤ سے صرف بنیادی حقوق کو ہی خطرہ نہیں، بلکہ اس سے دنیا کی معیشت اور سکیورٹی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ اگر دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک میں بنیادی حقوق اور سیاسی آزادی ہوتی ہے، تو اصل میں زیادہ سے زیادہ ممالک محفوظ اور خوشحال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ان ممالک میں شخصی حکمرانی اور آمریت پروان چڑھتی ہے تو بین الاقوامی معاہدے توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتے ہیں اور دنیا زیادہ غیر محفوظ اور عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی صورت حال میں دہشتگردی پنپتی ہے اور دہستگردوں کا دائرہ کار بڑھ جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…